میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے ’’نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ جس شخص کی نمازیں قضاء ہوئی ہوں ، اور تعداد معلوم نہ ہو ،تو رمضان کے آخری جمعہ کے دن چار رکعت نفل ایک سلام سے پڑھے، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد آیت الکرسی سات بار، سورہ کوثر پندرہ بار پڑھیں، اگر سات سو سال کی نمازیں بھی قضاء ہوئی ہوگی ، تو اس کے کفارہ کے لیے یہ نماز ہے؟
جی ہاں! اس طرح کی ایک حدیث علامہ ابن جوزیؒ نے اپنے معروف کتاب ’’الموضوعات لابن جوزیؒ‘‘ میں نقل کر کے اس پر موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے۔
پھر اس طرح دو رکعت نفل کا محض دو فرضوں کے برابر ہو جانا بھی قواعدِ شرعیہ کے اعتبار سے درست نہیں ، چہ جائیکہ بے شمار فرضوں کے لیے مکافات بن سکے، اس لیے اس طرزِ عمل کے موافق عمل کرنے یا دوسروں کو سکھانے و بتانے سے احتراز لازم ہے۔
ففی الموضوعات لإبن جوزی: حدثت عن أبي الأسعد محمد بن إبراهيم بن محمد بن أيوب حدثنا أبي حدثنا محمد بن علي حدثنا أبو محمد حدثنا أحمد بن عبيد الله النهرواني حدثنا أبو عاصم النبيل حدثنا الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال " دخل شاب من أهل الطائف على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله إني عصيت ربي، وأضعت صلاتي، فما حيلتي؟ قال: حيلتك بعد ما تبت وندمت على ما صنعت أن تصلي ليلة الجمعة ثمان ركعات تقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب مرة وخمسا وعشرين مرة قل هو الله أحد فإذا فرغت من صلاتك فقل بعد التسليم ألف مرة صلى الله على محمد النبي الامي فإن الله عزوجل يجعل ذلك كفارة لصلواتك. (إلی قوله) هذا حديث موضوع بلا شك وكان واضعه من جهلة القصاص وأخاف أن يكون قاصدا لشين الإسلام، لأنه إذا صلى الأنسان هذه الصلاة، ولم ير النبي صلى الله عليه وسلم في منامه شك في قول الرسول الله صلى الله عليه وسلم وكيف تقوم ركعتان يسيرة يتطوع بها مقام صلوات كثيرة مفترضة.هذا محال وفي إسناده مجاهيل فليس بشئ أصلا (۱۳۶)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کا ایک فقیر کی مدد کرنے والے واقعہ کی تحقیق
یونیکوڈ من گھڑت احادیث 0