آج کل ایک میسج چل رہا ہے کہ(وتر کی نماز پڑھنے کے بعد دو سجدے کرنے ہیں، پہلے میں ’’سبوح قدوس رب الملآئکة والروح‘‘ پانچ مرتبہ پڑھ کر جلسہ کرنا ہے اور آیت الکرسی ایک مرتبہ پڑھ کر دوبارہ سجدہ میں ’’سبوح قدوس رب الملآئکة والروح‘‘پانچ مرتبہ پڑھنا ہے) یہ وظیفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بتایا ہے۔ اس کے فضائل میں ہے کہ جگہ سے اٹھنے سے پہلے اس کی اللہ مغفرت فرماتے ہیں، اور اس کو سو حج سو عمرےسو شہیدوں کا ثواب عطا فرماتے ہیں، ہزا ر فرشتے نازل کرتے ہیں جواس کے لیے نیکیاں لکھتے ہیں اور ساٹھ بندوں کی سفارش کا حکم اللہ فرمائیں گے۔
کیا یہ کسی حدیث سے ثابت ہے؟ اور اس پر عمل کرنے والے کو ثواب ملے گا؟
سائل نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے اس کو محدثین اور شرّاح حدیث نے موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے، اس لئے اس کو درست سمجھ کر اس پر خود عمل کرنے اور آگے پھیلانے سے احتراز چاہئے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کا ایک فقیر کی مدد کرنے والے واقعہ کی تحقیق
یونیکوڈ من گھڑت احادیث 0