مفتی صاحب! ایک بات کی تحقیق مطلوب ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک بار ان کی عصر کی نماز مؤخر ہو گئی تھی، تو یہ پریشان ہو کر نبی کریمﷺ کی خدمت میں آئے تو نبیﷺ نے ان سے پوچھا تھا کہ اے علی! تم نے قضاء پڑھنی ہے یا ادا؟ تو حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ ادا پڑھنی ہے‘‘۔ پھر مجھے معلوم نہیں کہ نبیﷺ نے خود سورج کو اشارہ کیا تھا یا حضرت علی ؓ نے ، تو سورج شام سے ہٹ کر عصر کے قریب آ گیا تھا، تو حضرت اس بارے میں آپ تحقیق سے بتائیں آپ کی مہربانی ہوگی۔
سوال میں مذکور الفاظ کے ساتھ تو اس کا کہیں ذکر نہیں، البتہ روح المعانی میں حضرت اسماء بنتِ عمیس رضی اللہ عنہا کی روایت کا ایک واقعہ مذکور ہے کہ ’’ایک بار آپﷺ پر وحی کا نزول ہو رہا تھا ، اور سر مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نمازپڑھ لی ہے؟ تو انہوں نے کہا نہیں، چنانچہ آپﷺ نے اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ یہ آپ کی اور آپ کے رسول کی اطاعت میں مصروف تھا، لہٰذا اس کے لیے سورج کو واپس لوٹا دیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے دعا کو قبول فرما کر سورج کو لوٹایا‘‘۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ، میں نے خود سورج غروب ہونے کے بعد طلوع ہوتے دیکھا ، اور اس کی روشنی زمین پر پڑی ، اور فرماتی ہیں کہ یہ خیبر میں مقام صہباء کا واقعہ ہے، مگر صاحبِ روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کی صحت میں اختلاف ہے۔ روح المعانی اصل عبارت ملاحظہ ہو:
اگر یہ واقعۃً بھی درست ہو تو یہ آپﷺ کا معجزہ ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔ واللہ أعلم بالصواب!
ففی روح المعانی: عن أسماء بنت عميس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يوحى إليه ورأسه في حجر علي كرم الله تعالى وجهه فلم يصل العصر حتى غربت الشمس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صليت يا علي؟ قال: لا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم إنه كان في طاعتك وطاعة رسولك فاردد عليه الشمس قالت أسماء: فرأيتها غربت ثم رأيتها طلعت بعد ما غربت ووقعت على الأرض وذلك بالصهباء في خيبر، وهذا الخبر في صحته خلاف اھ (12/ 186) واللہ اعلم
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کا ایک فقیر کی مدد کرنے والے واقعہ کی تحقیق
یونیکوڈ من گھڑت احادیث 0