السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ میں پاکستان پیپر پروڈکٹ میں ملازمت کرتا ہوں اور مجھے یہاں کام کرتے ہوئے دس سال ہو چکے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی ملازم تین دن تاخیر سے آئے تو کمپنی اس کے بدلے آدھے دن کی تنخواہ کاٹ لیتی ہے۔ مزید یہ کہ انتظامیہ اس کٹوتی کو ہماری سالانہ چھٹیوں (Annual Leave) میں سے بھی منہا کر رہی ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا درست اور جائز ہے؟ پہلے یہ قانون موجود نہیں تھا، بعد میں انتظامیہ نے خود یہ اصول بنا لیا ہے۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا شرعاً اس طرح کرنا جائز ہے؟جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ کسی بھی کمپنی یا ادارے کے ساتھ متعین اوقات میں کام کرنے کے لیے کیا جانے والا معاہدہ فقہی اعتبار سے عقد اجارہ کہلاتا ہے جس میں اجیر خاص (کام کرنے والا شخص) مقررہ مدت میں اپنی خدمات اسی ادارے کو فراہم کرنے کا پابند ہوتا ہے، اور اسی بنیاد پر وہ اجرت کا مستحق ہوتا ہے اور اجیر خاص جتنا وقت کام کرے گا، اسی کے مطابق وہ اجرت کا مستحق قرار پائے گا اور جن اوقات میں وہ تاخیر سے آئے یا غیر حاضر رہے تو شرعا وہ ان اوقات کی اجرت کا حقدار نہیں بنتا ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر ملازم تاخیر کرتا ہے، تو جتنی تاخیر ہوئی ہے اسی کے مطابق اس وقت کی اجرت کی کٹوتی کرنا ادارے کی طرف سے شرعا جائز و درست ہے، البتہ مقررہ وقت سے زائد کٹوتی کرنا تعزیر مالی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعا جائز نہیں، پس ادارے یا کمپنی کو چاہیے کہ صرف منٹوں یا گھنٹوں کی تاخیر کی صورت میں انہیں تاخیری اوقات کے حساب سے اجرت کی کٹوتی کرے، اگر ملازم آدھا دن یا پورا دن غیر حاضر رہے تو اسی حساب سے اس دن کی آدھی یا مکمل اجرت کاٹی جا سکتی ہے، لیکن چند منٹوں یا گھنٹوں کی تاخیر کی وجہ سے آدھے دن کی اجرت کاٹنا اور اس کے ساتھ ساتھ ان اوقات کی وجہ سے ملازم کی سالانہ استحقاقی چھٹیوں میں کمی کرنا شرعا درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے،البتہ کمپنی اپنے ملازمین کو پابند رکھنے کیلئے ایک مقررہ وقت تک نہ پہنچنے کی صورت میں ملازم کو کام پر آنے کی اجازت نہ دے کر اس دن کی غیر حاضری شمار کرسکتی ہے۔( ماخوذ از تبویب بتغیر یسیر)
کما فی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل اھ (کتاب الاجارہ، باب ضمان الاجیر، مبحث الاجیر الخاص،ج:6 ، ص:69 ،ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل، فتاوى النوازل (قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلاً يوماً يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة، وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضاً. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلاً، وعليه الفتوى (الی قولہ) (قوله: ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه، وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة اھ(کتاب الاجارۃ،ج:6،ص:70،ط:سعید)
وفی البحر الرائق: وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال"اھ( فصل فی التعزیر ج:5، ص:41، ،ط: سعید)۔
وفی شرح المجلۃ: لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي اھ(مادۃ: 97 ج:1،ص:264 ط: رشیدیہ)۔