گناہ و ناجائز

سالی سے زنا کی صورت میں اپنا ازدواجی تعلق برقرار رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
95895
| تاریخ :
2026-06-01
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سالی سے زنا کی صورت میں اپنا ازدواجی تعلق برقرار رکھنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب!
ایک شخص شادی شدہ ہے۔ اس کی سالی بھی شادی شدہ ہے۔ دونوں کے درمیان تقریباً 2 سے 3 ماہ تک رضامندی سے ناجائز تعلق (زنا) رہا۔ اس دوران دونوں ایک دوسرے سے رابطے میں رہے اور بعض اوقات نامناسب ویڈیوز اور تصاویر بھی بنا کر ایک دوسرے کو بھیجتے رہے۔
یہ معاملہ دونوں کے اپنے اپنے شریکِ حیات (شوہر/بیوی) سے مخفی رکھا گیا۔ بعد میں یہ بات ظاہر ہو گئی، جس کے بعد دونوں نے یہ ناجائز تعلق ختم کر دیا ہے اور اب توبہ کرنا چاہتے ہیں۔
درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
حنفی فقہ کے مطابق کیا اس شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح برقرار ہے؟
کیا سالی کا اپنے شوہر کے ساتھ نکاح برقرار ہے؟
کیا اس گناہ کی وجہ سے کسی بھی فریق کے نکاح پر کوئی شرعی اثر پڑتا ہے؟
اس صورت میں دونوں پر شرعاً کیا توبہ لازم ہے؟
نامناسب ویڈیوز اور تصاویر بنانے اور ایک دوسرے کو بھیجنے کا شرعی حکم کیا ہے؟
کیا دونوں کے لیے اپنے اپنے ازدواجی تعلقات جاری رکھنا جائز ہے؟
آئندہ شرعی طور پر کن امور کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
براہِ کرم حنفی فقہ کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سالی سے زنا کرنا انتہائی قبیح حرکت ہونے کے ساتھ گناہِ کبیرہ ہے،قرآن وحدیث میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،شادی شدہ مرد وعورت کےلئے اس جرم کی سنگینی اور بھی شدید ہے۔اس لئے شخصِ مذکور کو اس جرم پر اللہ تعالیٰ کے حضور گِڑ گڑا کر توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کےلئے مکمل طوراس بدکاری سے باز آنے کا پختہ عزم کرنا لازم ہے۔تاہم فقہِ حنفی کے مطابق سالی سے زنا کے ارتکاب سے نکاح ختم نہیں ہوتا،بلکہ برقرار رہتاہے،اس لئے شخص مذکور کا اپنی بیوی کے ساتھ ،اور سالی کا اپنے شوہر کے ساتھ نکاح اب بھی بدستور برقرار ہے۔البتہ شخص مذکور کےلئے سالی سے ہمبستری کے بعد ایک حیض گزرنے تک یا حاملہ ہونے کی صورت میں وضعِ حمل (بچہ کی ولادت) تک اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

﴿وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَسَآءَ سَبِيلٗا ٣٢﴾ [الإسراء: 32]
«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» :
(ولا يجمع بين أختين نكاحا ولا بملك يمين وطئا) لقوله تعالى {وأن تجمعوا بين الأختين} [النساء: 23] ولقوله عليه الصلاة والسلام «من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يجمعن ماءه في رحم أختين» .(3/ 212)
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 50):
«قال في البحر: لو تزوج بامرأة الغير عالما بذلك ودخل بها لا تجب العدة عليها حتى لا يحرم على الزوج وطؤها وبه يفتى لأنه زنى والمزني بها لا تحرم على زوجها»
و فى الدر المختار : و في الخلاصة : وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته اھ (3/ 34)-
و فى حاشية ابن عابدين : و قوله : لا يحرم أي لا تثبت حرمة المصاهرة ، فالمعنى : لا تحرم حرمة مؤبدة ، و إلا فتحرم إلى انقضاء عدة الموطوءة لو بشبهة اھ (3/ 34)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95895کی تصدیق کریں
0     35
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات