گناہ و ناجائز

عورتوں کا خؤشبو لگاکر باہرنکلنا

فتوی نمبر :
95364
| تاریخ :
2010-08-31
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عورتوں کا خؤشبو لگاکر باہرنکلنا

خواتین کا خوشبو لگا کر گھر سے باہر جانا، خصوصاً اپنی تعلیم (اسٹڈیز) کے لیے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانا، کیا جائز ہے؟ بعض لوگ جواز کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ خوشبو لگانا سنت ہے۔ نیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے کے بارے میں یہ کہنا کہ 'ہمیں کوئی گناہ نہیں، اگر کسی دوسرے کی نیت خراب ہو تو گناہ اسی کو ہوگا، بس اپنی نیت صاف ہونی چاہیے'، کیا یہ بات درست ہے؟ براہِ کرم دلائل کے ساتھ واضح فرمائیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ خوشبو لگانا اگرچہ فی نفسہٖ سنت اور مستحب عمل ہے، لیکن شریعت مطہرہ نے مردوں اور عورتوں کے احکام میں فرق رکھا ہے۔ چنانچہ عورت کو گھر سے باہر نکلتے وقت ایسی خوشبو لگا کر نکلنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی جس کی خوشبو غیر محرم مردوں تک پہنچے اور ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کرے،البتہ گھر میں رہتےہوئے اپنے شوہر یا محارم کی موجودگی میں ایسی خوشبو لگانے میں شرعاً کوئی کوئی حرج نہیں ۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں خواتین کا اپنی تعلیم یا کسی اور ضرورت کے لیے گھر سے نکلتے وقت ایسی خوشبو استعمال کرنا جس کی مہک غیر محرم مردوں تک پہنچتی ہو اس پر احادیث مبارکہ میں ممانعت وارد ہوئی ہے اور اس ممانعت کی وجہ بھی یہ ہے کہ وہ خود اپنے عمل کی وجہ سے نامحرم مردوں کی توجہ سبب بن رہی ہے اس لئے مردوں کے گناہ گار ہونے کے ساتھ ساتھ یہ عورت بھی اس گناہ میں شریک ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الجامع الصحيح سنن الترمذي: عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال كل عين زانية والمرأة إذا استعطرت فمرت بالمجلس فهي كذا وكذا يعني زانية
قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح قال الشيخ الألباني : حسن (ج5 ص:106 باب كراهية خروج المرأة متعطرة ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)
وفی الشامیۃ: وحيث أبحنا لها الخروج فبشرط عدم الزينة في الكل، وتغيير الهيئة إلى ما لا يكون داعية إلى نظر الرجال واستمالتهم (ج3 ص: 146 مطلب فی السفر باالزوجۃ ط:دار الفكر-بيروت )


واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95364کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات