مفتیان اکرم
السلام علیکم
حضرات گرامی میں محمد عبداللہ شیخ کراچی کا رہائشی ہوں، کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بہت ہے، میرے علاقے میں 14 چودہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے، اس کے باوجود بجلی کمپنی 10 سے 15 ہزار کا بل بھیج دیتی ہے، ہم کمپنی کے واجبات پورے کر رہے ہیں مگر کمپنی ہمارے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے، میں ایک تنخواہ دار انسان ہوں، میں اب کنڈہ لگانا چاہتا ہوں، کمپنی جب اپنی من مانی کر رہی ہے ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے، شریعت کیا کہتی ہے اس عمل پر؟
کےالیکٹرک کی طرف سے اگر استعمال شدہ یونٹس سے زیادہ بل بھیجا جارہا ہو تو انتظامیہ کا اپنے صارفین سے استعمال شدہ بجلی سے زائد رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ظلم و زیادتی پر مبنی عمل ہے، جس پر انہیں توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے عدل و انصاف سے کام لینا لازم ہے۔ تاہم، اس کے باوجود سائل کے لیے کنڈا لگا کر یا کسی اور طریقے سے کمپنی کی بجلی بلا اجازت استعمال کرنا جائز نہیں۔ سائل کو چاہیے کہ زائد بل کے خلاف متعلقہ محکمہ سے رجوع کرکے اپنے حق کا مطالبہ کرے اور قانونی طریقہ اختیار کرے۔
کما فی التنزیل العزیز: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ}(النساء: ۲۹)
وفی رد المحتار: لا یجوز التصرّف فی مال غیرہ بلا إذنہ ولا ولایتہ۔ (۶/۲۰۰) مط: سعید