گناہ و ناجائز

گیارہ سالہ بچہ کا مشت زنی کی عادت میں پڑ جانے پر کون قصور وار ہوگا؟

فتوی نمبر :
95328
| تاریخ :
2026-05-14
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

گیارہ سالہ بچہ کا مشت زنی کی عادت میں پڑ جانے پر کون قصور وار ہوگا؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میرا ایک مختصر اور سیدھا سا سوال ہے۔اگر ایک 11 سالہ بچہ مشت زنی کی عادت میں مبتلا ہو جائے تو کیا یہ اس بچے کی اپنی سمجھ بوجھ اور غلطی کا نتیجہ ہے، یا یہ اس کی تقدیر کا معاملہ ہے؟براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں 11 سالہ بچے کا مشت زنی جیسی بری عادت میں مبتلا ہوناعموماً ماحول، تربیت، بری صحبت، فحش مواد وغیرہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔اس کو محض تقدیر کا معاملہ قراردیکر بری الذمہ ہوجانادرست نہیں ،البتہ اس عمر میں بچہ ابھی کامل سمجھ بوجھ اور پختگی نہیں رکھتا، اس لیے اس کی اصلاح اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔لہذابچےکے والدین اور سرپرستوں کو چاہیے کہ بچے کی دینی و اخلاقی تربیت کریں، اسے بری صحبت اور فحش چیزوں سے بچائیں، اور حکمت کے ساتھ اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95328کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات