گناہ و ناجائز

پرنٹنگ کے کام میں جاندار اشیاء کی تصاویر پرنٹ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
95261
| تاریخ :
2026-05-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پرنٹنگ کے کام میں جاندار اشیاء کی تصاویر پرنٹ کرنے کا حکم

اسلام وعلیکم ! بخدمت جناب مفتی صاحب
میں اپنے لئے ایک نئے کاروبار (DTF) ڈائریکٹ ٹو فلم پرنٹنگ کے حوالے سے شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔
اس کام میں ہم مختلف ڈیزائن، لوگوز اور تصاویر کو پہلے ایک فلیکس پیپر فلم پر پرنٹ کرتے ہیں پھر اسے ہیٹ پریس مشین کے ذریعے ٹی شرٹس، بیگم اور دیگر اشیاء پر منتقل کر دیتے ہیں۔
اس کاروبار کے حوالے سے میرے چند سوالات درج ذیل ہیں۔
1- جانداروں کی تصاویر:
کیا گاہکوں کی فرمائش پر انسانوں یا جانوروں کی تصاویر کو ٹی شرٹس یا دیگر اشیاء پر پرنٹنگ کرنا جائز ہے۔
2- کارٹون یا اینیمی (anime):
کارٹون کرداروں کو پرنٹنگ کرنے کا کیا حکم ہے؟
ان میں اکثر واضح آنکھیں،چہرے اور مکمل جسمانی ساخت موجود ہوتی ہے۔
3- موجودہ صورتحال:
اگر میں اپنے کاروبار کو صرف بے جان اور بغیر کارٹون یا اینیمی کو بغیر پرنٹنگ کرے کرتا ہوں تو میں اپنے کاروباری اخراجات پورے نہیں کر پاتا۔
براہ کرم تفصیل سے رہنمائی فرمائیں تاکہ حلال رزق کما سکوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جواب سے پہلے بطور تمہید یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیجییٹل تصاویرimages(جسے خارج میں دیکھنا جائز ہو)جب تک صرف کمپیوٹر یا موبائل اسکرین تک محدود ہوں اور اس کا پرنٹ آوٹ نہ لیا جائے تو اکابر علماء کی تحقیق کے مطابق وہ شرعاً ممنوعہ تصاویر میں داخل نہیں،البتہ جاندار (مثلا:مرد،عورت یا کتے وغیرہ جانور) کی پرنٹ شدہ تصاویر یا تصاویر کو پرنٹ کرنا تصویر سازی کے حکم میں داخل ہےجو شرعاً حرام اور ناجائز ہے اور اس پر سخت وعیدیں وارد ہیں۔تاہم غیر جاندار مثلاً درخت،لوگوز، عمارتیں، برتن، فرنیچر، پہاڑ وغیرہ کی پرنٹنگ شرعاً جائز ہے۔ اس تمہید کے بعد سائل کے سوالات کے جوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں: (1،2): جاندار اشیاء کی تصاویر کی پرنٹنگ کا کام کرنا شرعاً ناجائز ہے،اس سے اجتناب لازم ہے۔اور یہی حکم ان کارٹون کرداروں کا بھی ہے جن کے چہرے کے خد وخال نمایاں ہو،جیسے:آنکھ،ناک ،منہ وغیرہ۔البتہ اگر چہرہ کے خد وخال کو مسخ کرکے پرنٹ کیا جائے تو ایسی تصویر کی شرعاً گنجائش ہے۔لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ وہ جاندار اشیاء کی تصاویر کی پرنٹنگ کے کام سے اجتناب کرے۔(کذا فی فتوی رقم:84445)

مأخَذُ الفَتوی

«مشكاة المصابيح» :
وعن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌كل ‌مصور ‌في ‌النار يجعل له بكل صورة صورها نفسا فيعذبه في جهنم» . قال ابن عباس: فإن كنت لابد فاعلا فاصنع الشجر وما لا روح فيه(باب التصاوير،الفصل الأول،ج:2،ص:1274،ط:بيروت)
فقه البیوع: (192/1، ط: معارف القرآن)
الإعانة على المعصية حرام مطلقا بنص القرآن أعني قوله تعالى: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدة:2) وقوله تعالی: فلن اکون ظهيرا للمجرمین (القصص:17) ولکن الإعانة حقیقة هي ما قامت المعصية بعین فعل المعین، ولا يتحقق إلا بنية الإعانة أو التصريح بها…لخ۔والثاني(أي:ما قامت به المعصية بعينه): بتصريح المعصية فى صُلب العقد، كمن قال: بعني هذا العصير لأتخذه خمراً، فقال: بعته، أو أجِر لى بيتك لأبيع فيه الخمر، فقال: أجرته، فإنه بهذا التصريح تضمّن نفس العقد معصية، مع قطع النظر عما يحدث بعد ذلك من اتخاذه خمراً، وبيع الخمر فيه.
وفيه أيضا (194/1):
وكذلك الحكم في بَرمَجَة الحاسب الآلي(الكمبيوتر)... أو كان البرنامج مشتملا على ما لا يصلح إلا في الأعمال الربوية ، أو الأعمال المحرّمة الأخرى ، فإن العقد حرام و باطل ۔
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» :
«قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره ‌التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ»(ج:1،ص:647،ط:ايچ ايم سعيد)
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 392):
(و) جاز (إجارة بيت ... ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه ‌إعانة ‌على ‌المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي.
‌‌[رد المحتار]
نعم يظهر الفرق على ما قدمه الشارح تبعا لغيره من التعليل، لجواز بيع العصير بأنه لا تقوم المعصية بعينه، بل بعد تغيره فهو كبيع الحديد من أهل الفتنة، لأنه وإن كان يعمل منه السلاح لكن بعد تغيره أيضا إلى صفة أخرى.(ج:6،ص:392)
‌‌[رد المحتار]
مطلب في كراهة بيع ما تقوم المعصية بعينه (قوله: تحريما) بحث لصاحب البحر حيث قال: وظاهر كلامهم أن الكراهة تحريمية لتعليلهم بالإعانة على المعصية ط (قوله: لأنه ‌إعانة ‌على ‌المعصية) ؛ لأنه يقاتل بعينه، بخلاف ما لا يقتل به إلا بصنعة تحدث فيه كالحديد، ونظيره كراهة بيع المعازف؛ لأن المعصية تقام بها عينها، ولا يكره بيع الخشب المتخذة هي منه، وعلى هذا بيع الخمر لا يصح ويصح بيع العنب.
«المبسوط» للسرخسي (24/ 26):
«وكره ذلك أبو يوسف ومحمد رحمهما الله استحسانا؛ لأن بيع العصير، والعنب ممن يتخذه خمرا ‌إعانة ‌على ‌المعصية، وتمكين منها، وذلك حرام، وإذا امتنع البائع من البيع يتعذر على المشتري اتخاذ الخمر، فكان في البيع منه تهييج الفتنة، وفي الامتناع تسكينها.»

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95261کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات