السلام علیکم ، محترم مفتی صاحب، مجھے مندرج ذیل مسئلہ کے بارے میں فتوی درکار ہے۔
سوال: اگر کسی تعلیمی ادارے میں اساتذہ اور دیگر ملازمین کو کم و بیش دو ماہ کی سالانہ تعطیلات بمعہ تنخواہ دی جاتی ہو اور پھر ان تعطیلات کی دو ماہ کی تنخواہ وصول کرنے کے بعد کوئی استاد یا ملازم کچھ دنوں کے بعد استعفی دیدے تو شرعی طور پر ان سے دو مہینوں کی تنخواہ واپس لی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
انتظامیہ کا یہ عمل شرعی تصور ہوگا یا غیر شرعی ؟
جو استاد اس طرح پہلے نا بتائے اور دو مہینے کی چھٹی مع تنخواہ وصول کرنے کے بعد کچھ دنوں تک ڈیوٹی پر آئے اور پھر استعفی دیدے تو اس کا یہ عمل شرعی طور پر کیسے تصور ہوگا؟ کیا اس کو ان دو مہینوں کی تنخواہ رکھنا جائز ہے؟
کسی کا ارادہ تو نا ہو پہلے نوکری چھوڑنے کا مگر پھر کسی مجبوری کی بنیاد پر اس کو اس طرح نوکری چھوڑنی پڑے تو اس کا کیا حکم ہے؟ امید ہے کہ آب ان سوالات کا جلد از جلد جواب دیں گے، معاملہ سنگین اور فوری نوعیت کا ہے ۔
واضح ہو کہ تعلیمی اداروں (مدارس دینیہ ، سکول ، کالجز وغیرہ ) میں اساتذہ و معلمات کی تنخواہوں سے متعلق اسی ادارہ کا ضابطہ یا متعلقہ استاد کے ساتھ طے ہونے والے معاہدہ ہی کا اعتبار کیا جاتا ہے، بشرطیکہ اس میں شریعت کے منافی کوئی چیز نہ ہو۔ لہذا اگر کسی ادارہ کا ضابطہ یہ ہو کہ جو استاد پورا سال پڑھائے وہ سال کے اخیر میں چھٹیوں والے مہینوں کی تنخواہ کا حقدار ہوگا (جیسا کہ عموما ہوتا ہے)تو شرعا بھی وہ ان مہینوں کی تنخواہ کا حقدار ہوگا، اور اگر استاد یا معلمہ چھٹیوں والے مہینوں کے بعد، اور اگلا تعلیمی سال شروع ہونے سے قبل یا سال شروع ہونے کے بعد استعفی دیدیتا ہے تو جو تنخواہیں وہ پہلے وصول کرچکا ہے شرعااس کا مالک بن چکا ہے، اب ادارہ کے لیے اس سے ان تنخواہوں کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز نہ ہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکور تعلیمی ادارہ کا ضابطہ اگر یہ ہو کہ پورا سال کام کرنے والے کو چھٹی کے دو مہینوں کی تنخواہ بھی دی جاتی ہو (جیسا عام عرف ہے) تو ایسی صور ت میں مذکور ملازم کا ان دو مہینوں کی تنخواہ لینا اور اسے اپنے استعمال میں لانا شرعا جائز ہے، اگرچہ اس نے اگلے سال کے شروع میں استعفی دیدیا ہو، ادارہ کے لیے شرعا جائز نہیں ہے کہ ملازم سے ان تنخواہوں کی واپسی کا مطالبہ کرے ۔
في الأشباه والنظائر لابن نجيم:
ومنها البطالة في المدارس، كأيام الأعياد ويوم عاشوراء، وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم.والمسألة على وجهين: فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء، وإلا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي، وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له من بيت المال في يوم بطالته، فقال في المحيط: إنه يأخذ في يوم البطالة؛ لأنه يستريح لليوم الثاني.وقيل: لا يأخذ (انتهى) .وفي المنية: القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، واختاره في منظومة ابن وهبان، وقال: إنه الأظهر فينبغي أن يكون كذلك في المدارس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة. (ص: 81)