کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک بندہ مسجد میں مؤذن ہے اور اس کے ساتھ وہ مسجد کی صفائی اور بیت الخلاء کی صفائی بھی کرتے ہیں اور امام کے موجود نہ ہونے کی صورت میں نماز بھی پڑھاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مؤذن کو بیت الخلاء کی صفائی کرنا اور امام کی عدمِ موجودگی میں نماز پڑھانا اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ براہ کرم تفصیلی جواب عنایت فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں۔
واضح ہو کہ اذان اسلام کے شعائر میں سے ہے، اور اس ذمہ داری سنبھالنے والے شخص (مؤذن) کی فضیلت کے بارے میں بھی متعدد احادیث وارد ہیں۔ ایک روایت کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن مؤذن کی گردن سب سے اونچی ہوگی، (یعنی اس کا مقام بہت اعلیٰ ہوگا) اس لیے اولاً تو بہتر یہ ہے کہ مؤذن کی ذمہ داری کو فقط آذان تک محدود کرکے صفائی ستھرائی کے لئے مستقل الگ بندے کا انتظام کیا جائے، لیکن اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو چونکہ مسجد کے اندرونی حصے کی صفائی سعادت مندی کی بات ہے، اس لیے اس حصے کی صفائی اگر مؤذن کے ذمہ ہو تو پھر بھی مناسب ہے۔البتہ مؤذن سے بیت الخلاء وغیرہ کی صفائی کا کام لینا، جسے معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، مؤذن کے بلند مقام و مرتبہ کے منافی ہے، اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔تاہم اگر کوئی مؤذن بیت الخلاء وغیرہ کی صفائی کرنے کے بعد پاک صاف ہوکر امام کی عدم موجودگی میں نماز بھی پڑھاتا ہو، تو اس کا نماز پڑھانا اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی صحیح مسلم للنیسابوری:حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا عبدة عن طلحة بن يحيى عن عمه قال كنت عند معاوية بن أبى سفيان فجاءه المؤذن يدعوه إلى الصلاة فقال معاوية سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول "المؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة " (باب فضل الاذان و ھرب الشیطان ج2 ص 5 ط:بیروت)
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0