حقوق مسجد

مسجدِ شرعی کے ہوتے ہوۓ ،قریب مکان میں جماعت کرانا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا

فتوی نمبر :
59107
| تاریخ :
1995-02-02
عبادات / احکام مسجد / حقوق مسجد

مسجدِ شرعی کے ہوتے ہوۓ ،قریب مکان میں جماعت کرانا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا

محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ!
جنابِ عالی! ایک صاحب ہمارے محلہ کی جامع مسجد میں بطورِ امام و خطیب کے مقرر تھے، چند شرعی امور کے باعث علماء کرام کے متفقہ فیصلے کے تحت مسجد کی منتظم کمیٹی نے ان کو اپنے فرائض کی ادائیگی سے معزول کردیا تو انہوں نے مسجد سے تقریباً متصل میں ایک مکان میں مدرسہ کھول لیا جس سے مسجد کے مدرسہ کو شدید دھچکا لگا، نیز اب انہوں نے اسی مکان میں نمازِ پنجگانہ باجماعت کا اہتمام کرلیا حالانکہ وہ مکان مسجد سے تیس چالیس قدم کے فاصلے پر ہے جبکہ امام صاحب لوگوں کے گھر جاکر اور مختلف طریقوں سے ان کو مسجد سے روکتے ہیں اور اسی مکان میں نماز باجماعت کی ادائیگی کی ترغیب دیتے ہیں، اب دریافت یہ کرنا ہے کہ آیا ان کو اس طرح کرنا شرعاً جائز ہے؟جبکہ لوگ مسجد کے مرکزی دروازے کے سامنے سے گزر کر اس مکان کی طرف جاتے ہیں اور مسجد میں نماز باجماعت ادا نہیں کرتے؟
محترم جناب عالی! ہم نے تو سنا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابن ام مکتومؓ کو گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی تھی تو کیا آج لوگوں کو مسجد سے برگشتہ کرکے مکان میں ادائیگیٔ نماز کی ترغیب دینا کیا شرعاً جائز ہے؟ نیز ’’وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَساجِدَ اﷲِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِہَا‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
(۲) نیز جو قرآن مجید مسجد کو وقف کئے گئے ہوں وہ قرآن مجید بغیر اجازت کے لے جانا اور اس پر اپنے مدرسے میں بچوں کو تعلیم دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں جن مولوی صاحب موصوف کا تذکرہ ہے ان کے متعلق یہ بیان اگر واقعۃً درست ہے (اور یہ موصوف وہی ہیں جن کے بارے میں کچھ عرصہ قبل بھی اہلِ محلہ اور ان کے درمیان ایک مخاصمہ کی صورت ہمارے یہاں دارالافتاء میں زیرِ بحث آئی تھی ) تو ان سب احوال کے پیشِ نظر مسجد قدیم سے فقط تیس، چالیس قدم کے فاصلہ پر ان کا مدرسہ قائم کرنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کو اپنے یہاں نماز پڑھنے کی ترغیب دے کر اسی مکان میں نماز باجماعت قائم کرنا قطعاً دعوت الی الخیر نہیں ہوسکتا، بلکہ ان کا یہ عمل اور رویہ مسجدِ قدیم جو کہ شرعی مسجد بھی ہے اسے غیر آباد کرنے کے مترادف ہے جس کی وجہ سے مولوی صاحب موصوف پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس نامناسب رویہ سے مکمل احتراز کریں اور اب تک عوام میں افتراق وانتشار پھیلانے میں جتنا حصہ لیا ہے، اس پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار بھی کریں۔
اسی طرح مولوی صاحب موصوف اور ان کے ہم خیال لوگوں کا مسجدِ شرعی کی نماز میں شرکت کے بجائے ایک مکان میں نماز ادا کرنا قطعاً جائز نہیں چنانچہ رسولِ اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں جو اذان سننے کے بعد بلاکسی شرعی عذر کے ، مسجد میں شریکِ نماز نہ ہوں ان کے گھروں کو آگ لگادینے کا فرمایا ہے اور ایک جگہ یہ فرمایا کہ بغیر عذر کے گھر میں نماز پڑھنے سےنماز ہوتی ہی نہیں، اسی طرح اور بھی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، جن کی بناء پر ان سب پر لازم ہے کہ وہ اس افتراق وانتشار سے احتراز کریں اور مسجد میں حاضر ہوکر جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں۔
(۲) اگر وقف کرنے والوں نے یہ قرآن مجید فقط پڑھنے اور ثواب حاصل کرنے کیلئے وقف کئے ہوں اگرچہ مذکورہ مسجد میں ہی دئیے ہوں تب تو دوسری جگہ لے جاکر بھی انکو پڑھنا جائز اور درست ہے، اور اگر وقف کرنے والوں نے متعلقہ مسجد متعین کردی ہو تو اس صورت میں دوسری جگہ لے جانا ہرگز جائز نہیں جس سے احتراز ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال تعالٰی: ومن أظلم ممن منع مسٰجد اللّٰہِ أن یذکر فیہا اسمہ وسعٰی فی خرابہا۔ الآیۃ:(سورۃ البقرۃ ۱۱۳)۔
عن عبداﷲ بن مسعود قال حافظ علی ہولآء الصلوات الخمس حیث ینادی بہن فانہن من سنن الہدٰی وان اﷲ عزوجل شرع لنبیّہ ﷺ سنن الھدٰی ولقد رأیتنا وما یتخلف عنہا إلا منافق بین النفاق ولقد رأیتنا وان الرجل لیہادی بین الرجلین حتی یقام فی الصف وما منکم من أحد إلا ولہ مسجد فی بیتہ ولو صلیتم فی بیوتکم وترکتم مساجدکم ترکتم سنۃ نبیکم ولو ترکتم سنۃ نبیکم لکفرتم۔ اھـ(مسلم شریف ج۱، ص۸۱)۔
فی الخلاصۃ َ: اذا وقف مصحفا علی أہل مسجد لقراءۃ القرآن ان کانوا یحصون جاز وإن وقف علی المسجد جاز یقرأ فی ذٰلک المسجد وفی موضع آخر ولا یکون مقصورًا علی ہذا المسجد۔ اھـ (البحر الرائق: ج۴، ص۲۰۳)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59107کی تصدیق کریں
0     2554
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • روڈ کٹنگ کی وجہ سے مسجد کو اپنی جگہ سے آگےبڑھانا

    یونیکوڈ   اسکین   حقوق مسجد 0
  • گورنمنٹ کی جگہ بلااجازت مسجدبنانا

    یونیکوڈ   اسکین   حقوق مسجد 1
  • نئی مسجد کی تعمیر کے بعد پرانی مسجد منہدم کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   حقوق مسجد 1
  • پلاٹنگ کرتے ہوۓ ، مسجد کیلۓ پلاٹ مختص کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مارکیٹ کی چھت کو بطورِ مسجد استعمال کرنے سے متعلق چند سوالات

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • عام راستے کو مسجد میں شامل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مؤکلین ،جنات کی حقیقت اور ان کے تصرفات

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • پرانی عیدگاہ کو مسجد بنانے کا حکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 1
  • مسجدِ شرعی کے ہوتے ہوۓ ،قریب مکان میں جماعت کرانا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد میں چہل قدمی کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 1
  • مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 2
  • عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 3
  • حدودِ مسجدمیں سے کچھ حصہ جوتوں کے لۓ مختص کرنا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • نمازِ جمعہ کے لۓ وقف کی گئی زمین کو مسجد کا حصہ بنانا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کے کچھ حصہ کو استنجاء خانہ کے لۓ استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کے لیے وقف کی ہوئی جگہ میں بیت الخلاء اور مدرسہ بنانا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 2
  • ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کے لیے وقف جگہ پر سکول بنانا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کے لئے وقف شدہ زمین کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 1
  • واقف کے بیٹوں کا زمین کسی پر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • دفترمیں باجماعت نماز پڑھنے کاحکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کو صدقہ یا ہدیہ دے سکتے ہیں یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کے ایک حصے کو مدرسۃ البنات کے ساتھ خاص کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد میں شامل کئے گئے راستے کو دوبارہ راستہ بنانا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • غیر مسلم کا پیسہ مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
Related Topics متعلقه موضوعات