کیا فرماتے ہیں حضرات علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی ایک کنال زمین مسجد کو وقف کی اور وہ زمین مسجد میں شامل نہیں ہو سکتی، چونکہ درمیان میں سڑک ہے، اس وقف شدہ زمین میں اب انتظامیہ بیت الخلاء اور اوپر کی منزل پر مدرسہ بنانا چاہتی ہے، کیا انتظامیہ کا اس طرح کرنا درست ہے ؟ یا اس زمین کو فروخت کر کے قیمت مسجد میں لگانا ضرو ری ہے؟ یاد رہے کہ مسجد کی تعمیر ات ابھی جاری ہے۔
مذکور زمین جو مسجد کے لیے وقف کی گئی ہے، اسے اگر مسجد ہی میں شامل کرنا واقعی ممکن نہ ہو اور اس میں ابھی تک کوئی تعمیر وغیرہ بھی نہ ہوئی ہو تو اس زمین کو مصالحِ مسجد (وضوخانہ وغیرہ ) کے لیے استعمال کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔
ففی الخانیة: "وما فيه مصلحة للمسجد على أن القيم أن یتصرف في ذلك ما يرى فیه (۵/٨٥٧) والله أعلم بالصواب!
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0