کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ نے مسجد کے لۓ اپنی زمین کا کچھ حصہ وقف کیا تھا اور اس پر مسجد بنائی تھی اور اسی مسجد کے قریب زمین کے دوسرے حصہ کو ہم نے نمازِ جنازہ کے لۓ وقف کیا تھا، لیکن وہ مسجد پرانی تھی، اس لۓ محلہ والوں نے اُسے گِرا کر اس پر نئی مسجد بنائی اور اس نئی مسجد میں ہماری وہ زمین بھی شامل کر دی گئی جس کو ہم نے نمازِ جنازہ کے لۓ وقف کیا تھا اور جب محلہ والوں نے اس زمین پر مسجد بنانا شروع کی تو ہم نے کہا کہ یہ زمین ہم نے صرف نمازِ جنازہ کے لۓ وقف کی ہے مسجد کے لۓنہیں، لہٰذا آپ لوگ اس پر مسجدمت بناؤ، لیکن پھر بھی انہوں نے ہماری بات نہ مانی اور مسجد بنائی، اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسی مسجد میں نماز پڑھنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اگرچہ مذکور جگہ پر نماز پڑھنے سے نماز تو شرعاً ادا ہو جائےگی، مگر اصل مالک کی طرف سے مسجد کے لۓ وقف نہ کرنے کی وجہ سے مسجد کے اس حصہ میں نماز پڑھنے سے مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب نہ ملے گا، اس لۓ مسجد انتظامیہ کو چاہیۓ کہ مذکور جگہ سے متعلق اصل مالکان سے باضابطہ اجازت لے کر یا مذکور قطعۂ ارضی خرید کر اُسے مسجد میں شامل کریں، تاکہ دیگر احکامِ مسجد بھی لاگو ہو سکیں۔
فی الدر المختار: (و) أما (المتخذ لصلاة جنازة أو عيد) فهو (مسجد في حق جواز الاقتداء) وإن انفصل الصفوف رفقا بالناس (لا في حق غيره) به يفتى نهاية (فحل دخوله لجنب وحائض) اھ وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: به يفتى. نهاية) عبارة النهاية: والمختار للفتوى أنه مسجد في حق جواز الاقتداء إلخ (1/ 657)۔
وفی التاتارخانیة: وفی الخانیة: مسجد إتخذ لصلاة الجنازة أو لصلاة العید هل یکون له حکم المسجد؟ اختلف المشائخ فیه قال بعضهم: یکون مسجداً حتیٰ لو مات الواقف لا یورث عنه وقال بعضهم: ما اتخذ لصلاة الجنازة فهو مسجد لایورث عنه اھ (۵/۸۴۵)۔
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0