ہمارے محلہ کی مسجد کے صحن کے ساتھ گزرگاہ کے لئے ایک راستہ تھا،چند سال پہلے اس راستہ کو مسجد کے صحن میں شامل کرکے گزرگاہ ختم کردی گئی اور وہاں نماز کے لئے صفیں وغیرہ بچھائی جاتی رہیں،مسجد کے صحن کے دوسری طرف مدرسہ کی عمارت ہے،مدرسہ میں جانے کے لئے راستہ نہیں ہے،مسجد کے صحن میں شامل کیا گیا راستہ دوبارہ راستہ کے لئے بنا دیا گیا ہے اور گزرگاہ کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے،کیا یہ صورت جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں راستہ کے طور پر استعمال ہونے والا رقبہ اگر کسی کی ملکیت تھا اور اس نے مسجد کے لئےوقف کردیا تھا، جس کے بعد باضابطہ طور پر مسجد میں شامل کرلیا گیا تھا یا پہلے سے وقف جگہ کو متولی نے باقاعدہ طور پر شرعی مسجد میں شامل کرلیا تھا،تو اب اس رقبہ کو مسجد سے کاٹ کر دوبارہ راستہ بنانا جائز نہ ہوگا، البتہ اگر مذکورہ راستہ موقوفہ نہ تھا اور اس مسجد میں وقف کرکے باقاعدہ شامل نہیں کیا گیا تھا،بلکہ ویسے ہی وہاں صفیں بنائی جاتی تھیں، تو اس صورت میں اس رقبہ کو واپس راستہ بنانا بھی درست ہوگا۔
کمافی الھندیة: البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلاخلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية اھ(2/362)۔
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0