السلام علیکم!
ایک محلے کی مسجد (قدیم) آبادی بڑھنے کی وجہ سے کئی سال بعدنمازیوں کے لئے تنگ پڑ گئی، متصل زمین نہ ہونے کی بناء پر دوسری جگہ مسجد(جدید) بنائی گئی،قدیم مسجد میں مستقل امام رکھنے سے محلے والوں میں اختلاف اور تقسیم ہونے کا قوی اندیشہ ہے، اسی بنا پر محلے والوں نے قدیم مسجد کی پہلی منزل کو مسافر خواتین کے لئے خاص کرنے کی نیت کی ہے اور دوسری منزل کو(جن کا راستہ بھی الگ ہے) مدرسۃ البنات کے ساتھ خاص کیا ہے، جن میں جز وقتی طور پر عالمات فاضلات آکر بچیوں کو پڑھائیں گی، اب درجِ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1: کیا مسجد قدیم کی پہلی منزل کو بطورِ " مسجد براہِ مسافر خواتین'' استعمال کرنا درست ہےاور دوسری منزل میں عالمات فاضلات آکر جز وقتی یا کل وقتی طور پر بچیوں کو پڑھا سکتی ہیں؟
2: مسجد قدیم کو آباد رکھنے کے اور کیا طریقے ہوسکتے ہیں ؟
جس جگہ کو ایک مرتبہ مسجد کے لئے وقف کر کے وہاں مسجد تعمیر کی جائے تو وہ تا قیامت مسجد ہی کے حکم میں رہتی ہے، اسے کسی اور مقصد کے لئے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں قدیم مسجد میں مستقلاً مدرسۃ البنات قائم کرنا یا مسافر خواتین کے لئے اس کی ایک منزل مختص کرنا جائز نہیں،بلکہ قدیم مسجد کو بھی باقاعدہ آباد رکھنے کی کوشش کرنی چاہیئے ،اگرچہ کچھ لوگ قدیم مسجد میں اور کچھ جدید مسجد میں نماز پڑھیں،اس طرح اگر محلے کے لوگوں میں اتفاقِ رائے سے دونوں مسجدوں کو آباد رکھنے کا انتظام ہوجائے تو انتشار بھی نہ ہوگا۔
کمافی الدر المختار: (ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي اھ(4/358)۔
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0