محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ!
جنابِ عالی! ایک صاحب ہمارے محلہ کی جامع مسجد میں بطورِ امام و خطیب کے مقرر تھے، چند شرعی امور کے باعث علماء کرام کے متفقہ فیصلے کے تحت مسجد کی منتظم کمیٹی نے ان کو اپنے فرائض کی ادائیگی سے معزول کردیا تو انہوں نے مسجد سے تقریباً متصل میں ایک مکان میں مدرسہ کھول لیا جس سے مسجد کے مدرسہ کو شدید دھچکا لگا، نیز اب انہوں نے اسی مکان میں نمازِ پنجگانہ باجماعت کا اہتمام کرلیا حالانکہ وہ مکان مسجد سے تیس چالیس قدم کے فاصلے پر ہے جبکہ امام صاحب لوگوں کے گھر جاکر اور مختلف طریقوں سے ان کو مسجد سے روکتے ہیں اور اسی مکان میں نماز باجماعت کی ادائیگی کی ترغیب دیتے ہیں، اب دریافت یہ کرنا ہے کہ آیا ان کو اس طرح کرنا شرعاً جائز ہے؟جبکہ لوگ مسجد کے مرکزی دروازے کے سامنے سے گزر کر اس مکان کی طرف جاتے ہیں اور مسجد میں نماز باجماعت ادا نہیں کرتے؟
محترم جناب عالی! ہم نے تو سنا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابن ام مکتومؓ کو گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی تھی تو کیا آج لوگوں کو مسجد سے برگشتہ کرکے مکان میں ادائیگیٔ نماز کی ترغیب دینا کیا شرعاً جائز ہے؟ نیز ’’وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَساجِدَ اﷲِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِہَا‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
(۲) نیز جو قرآن مجید مسجد کو وقف کئے گئے ہوں وہ قرآن مجید بغیر اجازت کے لے جانا اور اس پر اپنے مدرسے میں بچوں کو تعلیم دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جن مولوی صاحب موصوف کا تذکرہ ہے ان کے متعلق یہ بیان اگر واقعۃً درست ہے (اور یہ موصوف وہی ہیں جن کے بارے میں کچھ عرصہ قبل بھی اہلِ محلہ اور ان کے درمیان ایک مخاصمہ کی صورت ہمارے یہاں دارالافتاء میں زیرِ بحث آئی تھی ) تو ان سب احوال کے پیشِ نظر مسجد قدیم سے فقط تیس، چالیس قدم کے فاصلہ پر ان کا مدرسہ قائم کرنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کو اپنے یہاں نماز پڑھنے کی ترغیب دے کر اسی مکان میں نماز باجماعت قائم کرنا قطعاً دعوت الی الخیر نہیں ہوسکتا، بلکہ ان کا یہ عمل اور رویہ مسجدِ قدیم جو کہ شرعی مسجد بھی ہے اسے غیر آباد کرنے کے مترادف ہے جس کی وجہ سے مولوی صاحب موصوف پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس نامناسب رویہ سے مکمل احتراز کریں اور اب تک عوام میں افتراق وانتشار پھیلانے میں جتنا حصہ لیا ہے، اس پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار بھی کریں۔
اسی طرح مولوی صاحب موصوف اور ان کے ہم خیال لوگوں کا مسجدِ شرعی کی نماز میں شرکت کے بجائے ایک مکان میں نماز ادا کرنا قطعاً جائز نہیں چنانچہ رسولِ اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں جو اذان سننے کے بعد بلاکسی شرعی عذر کے ، مسجد میں شریکِ نماز نہ ہوں ان کے گھروں کو آگ لگادینے کا فرمایا ہے اور ایک جگہ یہ فرمایا کہ بغیر عذر کے گھر میں نماز پڑھنے سےنماز ہوتی ہی نہیں، اسی طرح اور بھی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، جن کی بناء پر ان سب پر لازم ہے کہ وہ اس افتراق وانتشار سے احتراز کریں اور مسجد میں حاضر ہوکر جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں۔
(۲) اگر وقف کرنے والوں نے یہ قرآن مجید فقط پڑھنے اور ثواب حاصل کرنے کیلئے وقف کئے ہوں اگرچہ مذکورہ مسجد میں ہی دئیے ہوں تب تو دوسری جگہ لے جاکر بھی انکو پڑھنا جائز اور درست ہے، اور اگر وقف کرنے والوں نے متعلقہ مسجد متعین کردی ہو تو اس صورت میں دوسری جگہ لے جانا ہرگز جائز نہیں جس سے احتراز ضروری ہے۔
قال تعالٰی: ومن أظلم ممن منع مسٰجد اللّٰہِ أن یذکر فیہا اسمہ وسعٰی فی خرابہا۔ الآیۃ:(سورۃ البقرۃ ۱۱۳)۔
عن عبداﷲ بن مسعود قال حافظ علی ہولآء الصلوات الخمس حیث ینادی بہن فانہن من سنن الہدٰی وان اﷲ عزوجل شرع لنبیّہ ﷺ سنن الھدٰی ولقد رأیتنا وما یتخلف عنہا إلا منافق بین النفاق ولقد رأیتنا وان الرجل لیہادی بین الرجلین حتی یقام فی الصف وما منکم من أحد إلا ولہ مسجد فی بیتہ ولو صلیتم فی بیوتکم وترکتم مساجدکم ترکتم سنۃ نبیکم ولو ترکتم سنۃ نبیکم لکفرتم۔ اھـ(مسلم شریف ج۱، ص۸۱)۔
فی الخلاصۃ َ: اذا وقف مصحفا علی أہل مسجد لقراءۃ القرآن ان کانوا یحصون جاز وإن وقف علی المسجد جاز یقرأ فی ذٰلک المسجد وفی موضع آخر ولا یکون مقصورًا علی ہذا المسجد۔ اھـ (البحر الرائق: ج۴، ص۲۰۳)۔
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0