میں نے اپنی نانی کے ذریعے اپنے والد کے شناختی کارڈ میں پتہ تبدیل کیا اور اسکے ذریعے ہم نے پورے خاندان کے لیے فاٹا ڈومیسائل بنوائے، حالاں کہ میرےباپ، دادا کا تعلق فاٹا سے نہیں ہے۔ پھر ان ڈومیسائل کے ذریعے ہمیں کوٹہ سیٹ پر داخلہ مل گیا میڈیکل میں، کیا یہ ہمارے لیے جائز ہے ؟کیا اس سے ہمیں جو کمائی ملے گی، وہ حلال ہوگی یا حرام؟
سائل کا خلاف حقیقت پتہ اندارج کرواکر اپنے خاندان کافاٹا ڈومیسائل بنوانا تو جھوٹ، دھوکہ دہی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ تھا جس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب لازم ہے۔ تاہم اگر اس بنیاد پر سائل کو کسی جگہ جائز نوکری مل جائے اور اس میں اس کام کی صلاحیت بھی موجود ہو اور وہ کام پوری دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دے تو اس پر ملنے والی تنخواہ شرعاً حلال ہوگی۔
كما في سنن أبي داود: عن أبي وائل، عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إياكم والكذب، فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وإن الرجل ليكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا، (4/ 297 ت محيي الدين عبد الحميد)
وفي الصحيح لمسلم: عن أبي هريرة « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني». (1/ 69 ط التركية)
وفي الفتاوى الهندية: «والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر» (4/ 500)