گناہ و ناجائز

لڑکے کے ذہنی مریض ہونے کی وجہ سے منگنی ختم کرنا

فتوی نمبر :
94611
| تاریخ :
2026-04-25
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

لڑکے کے ذہنی مریض ہونے کی وجہ سے منگنی ختم کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ!
مفتی صاحب پوچھنا آپ سے یہ ہے کہ میری بہن جب ایک مہینے کی تھی اس وقت میرے ابو نے اپنے بھتیجے کے ساتھ اسکی منگنی کردی تھی اوربھتیجے کی بیٹی کی منگنی اپنے بیٹے سے کروائی تھی اور والد کا بھتیجا اب ذہنی مریض ہے، اب ہم وہ رشتہ نہیں دینا چاہتے ہے، صرف منگنی ہوئی تھی ،دونوں طرف سے ،اب آپ ہماری رہنمائی فرمائیں ،ہم یہ رشتہ نہیں دینا چاہتے ،لیکن وہ ہمیں بہت زیادہ تنگ کرتے ہے کہ آپ نے یہ رشتہ ہر صورت میں ہمیں دینا ہے،اب ہم کیا کرے،اور شرعی طور پر اس منگنی کی کیا حیثیت ہے جو دونوں طرف سے ہوئی ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ منگنی کی ٖ حیثیت شرعاً وعدہ نکاح کی ہوتی ہے، اس کی وجہ سے لڑکا و لڑکی شرعاً ایک دوسرے کے عقد نکاح میں داخل نہیں ہوتے بشرطیکہ منگنی کی تقریب میں باقاعدہ نکاح نہ کرایا جائے ،البتہ بلا کسی معقول عذر کے اس وعدہ کو پورا نہ کرنا تو بلاشبہ وعدہ خلافی کے زمرے میں آتا ہے ،مگر والدین کے ہاں کوئی عذر معقول ہو ،جس کی وجہ سے وہ یہ رشتہ برقرار نہ رکھنا چاہتے ہوں ،تو اس کا انھیں اختیار ہے ،شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، لہذا صورت مسؤلہ میں اگر منگنی کی اس تقریب میں باقاعدہ ان بچوں کا نکاح نہ کرایا گیا ہو بلکہ فقط رشتہ دینے کا وعدہ کیا گیا ہو اور اب سائل مذکور لڑکے (والد کے بھتیجے )کی ذہنی صحت متاثر ہونے یا دیگر اعذار کی بنا پر اپنی بہن اس کے عقد میں نہ دینا چاہتے ہوں ،تو شرعاً اس کی انھیں اجازت ہے ،اور دوسرے فریق کو بھی چاہیے کہ وہ اب اس رشتہ پر إصرار کرتے ہوئے اور اسے انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس معاملہ کو بحسن خوبی ختم کردیں تاکہ خاندان نفرتیں بڑھنے سے محفوظ ہوسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: لو ‌قال ‌هل ‌أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح اھ (كتاب النكاح،ج: 3،ص: 11،مط: دار الفکر بیروت)
و فی فتح القدیر: لو ‌قال: ‌هل ‌أعطيتنيها فقال: أعطيتك إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح اھ (كتاب النكاح،ج: 3،ص: 89،مط: دار الکتاب الاسلامی)
و فی الھدایہ: قال: "‌ولا ‌ينعقد ‌نكاح ‌المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف" قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام "لا نكاح إلا بشهود"( ‌‌كتاب النكاح،ج: 1،ص: 175،مط: دار احیاء التراث العربی)
و فی مختصر القدوری: النكاح ‌ينعقد ‌بالإيجاب ‌والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي أو يعبر بأحدهما عن الماضي وبالآخر عن المستقبل مثل أن يقول: زوجتي فيقول زوجتك،اھ (‌‌كتاب النكاح،ص: 145،مط: دار الکتب العلمیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94611کی تصدیق کریں
0     51
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات