فرض کریں ایک شخص نے کسی دوسرے فرد کا بینک اکاؤنٹ ہیک کر کے اس میں سے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر لی۔ یہ جرم مکمل طور پر انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کیا گیا، جس میں متاثرہ شخص کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
(اس کیس پر فتوہ لینا میرے اسائنمنٹ کا حصہ ہے ، مہربانی کر کے جلدی جواب دیجیے گا ،شکریہ)
سائل نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ سائل کو اس کے متعلق کیا معلوم کرنا مقصود ہے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم کسی شخص کے اکاؤنٹ کو ہیک کرکے اکاؤنٹ میں موجود رقم اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنا ناجائز اور حرام عمل ہے، جس پر مذکور شخص کو توبہ واستغفار اور جتنی رقم اس نے دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کی ہے ، اتنی رقم اس کے مالک تک واپس کردینا لازم اور ضروری ہے۔
کما فی صحیح المسلم : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ ﷺ قال من حمل علینا السلاح فلیس منا ، ومن غشنا فلیس منا ( باب من غش فلیس منا ، ج : 1 ، ص : 133 ، ط : بشری )
و فی احکام القرآن تحت قولہ تعالی ( ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ) والمراد واللہ اعلم لا یاکل بعضکم مال بعض بالباطل کما قال علیہ السلام اموالکم و اعراضکم علیکم حرام یعنی اموال بعضکم علی بعض و اکل المال بالباطل علی وجھین احدھما اخذہ علی وجہ الظلم والسرقۃ والخیانۃ والغصب ولآخر من جھۃ محظورۃ نحو القمار الخ ( باب ما یحلہ حکم الحاکم ومالا یحل ، ج : 1 ، ص : 251 ، ط : سھیل اکیڈمی )