سوال: ایک شخص نے نجی زمین میں عرصہ 23 سال پہلے اپنی بیٹی کے سسر کو دفن کیا، مالک جائیداد کے فوتگی کے بعد، اس کے بیٹے نے وراثتی ملکیت کے طور پر اپنی اسی بہن کو قبر مذکورہ اور اس سے ملحقہ زمین بطور وراثتی حق دیا، جس پر بعد ازاں مرحوم کے بیٹے نے اپنی بیوی کی رضامندی سے گھر بنایا اور قبر مذکورہ اب اس گھر کے اندر ہے، مذکورہ گھر ہم کرایہ پر دینا چاہتے ہیں ، یا بیچنا چاہتے ہیں، اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شرعی طور پر کیا ہم اپنے والد کے جسد خاکی کو مرکزی قبرستان منتقل کر سکتے ہیں؟مدلل جواب درکار ہے۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ قبر کو تقریباً 23 سال گزر چکے ہیں اور غالب گمان ہے کہ صاحبِ قبر کے جسم کے اجزاء مٹی میں تبدیل ہوچکے ہوں گے، لہٰذا مالک مکان کے لیےمیت کو دوسری جگہ منتقل کیےبغیر قبر کو ختم کرکے زمین کو ہموار کرنا اور اس پر مکان تعمیر کرنا شرعاً جائز و درست ہے۔ اسی طرح مذکورہ مکان کو کرایہ پر دینا یا فروخت کرنا بھی جائز ہے۔
کما في البحر الرائق: وفي التبيين ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه الخ(2/ 210)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وحفر قبره إلخ)(الی قولہ) وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه الخ (2/ 233)۔
وفی البحر الرائق: وذكر في التبيين أن صاحب الأرض مخير إن شاء أخرجه منها وإن شاء ساواه مع الأرض وانتفع بها زراعة أو غيرها الخ (2/210)۔