خلع

حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے خلع لینا

فتوی نمبر :
94100
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام طلاق / خلع

حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے خلع لینا

السلام علیکم جناب مفتی صا حب!
میں ایک بیوہ ہوں ، میرے چار بچے ہیں ،جن میں تین بیٹیاں ا ور ایک بیٹا ہے ،میری دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں ، میری تیسری بیٹی جس کا نام بشر ی جاوید ہے ،ا س کی عمر27 سال ہے ،میں نے اسے اچھی تعلیم دی ،و ہ ماشاء اللہ "بی ا ے" ہے ،ا ور آج سے تین سا ل پہلے وہ اعلی تعلیم کے لیے اٹلی گئی ،ا س دورا ن اس کا ا یک رشتہ آیا لڑکا جرمنی میں مقیم تھا، اور اس کے والدین منڈی بھاؤ ا لدین میں رہائش پذیر تھے ،وہ لوگ پنجابی ہیں، لڑکا پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا لگا ، ہم اس کے وا لدین سے ملیں اس کی چار بہنیں ہے،جس میں سے دو شادی شدہ ا ور دو غیر شادی شدہ ا ور ا یک چھوٹا بھائی ہے ، فون پر ان سے بات چیت رہی اور پھر رشتہ ہو گیا، ا نہوں نے نکاح کا کہا میں نے کہا کہ جب تک میری بیٹی بھی باہر نہیں جاتی ،میں رشتہ نہیں کرونگی، کیونکہ اب لڑکی کا باہر جانا بہت مشکل ہو گیا ہے ا ور اس میں بہت وقت لگتا ہے ، اتفاق سے میر ی بیٹی اسکالر شپ پر اٹلی گئی ا ور وہاں سے جرمنی ،تو پھر ہم نے باہم رضا مندی سے فون پر ان کا نکاح کروا د یا ، اور دونوں خاند ا ن فون پر اس شادی میں شر یک ہوئے،پہلے میرے ہونے والے داماد کی نوکری بہت اچھی تھی ، پھر اس کی نوکر ی چلی گئی ا ور پھر جو نوکری ا سے ملی ،وہ بہت کم تھی جس میں اس کا اپنا گزر مشکل تھا ، لیکن و ہ اس میں بھی اپنے گھر والوں کوپیسے بھیجتا رہا، اس نے اپنے بھائی کی شادی کی، اپنا گھر بنا دا یا، اپنے باپ کو گاڑی لے کر دی، ا س دورا ن میں با ر بار ا ن سے کہتی رہی، کہ اب تم پا کستان آکر رخصتی کروالو، لیکن اس کے گھر والے بار بار ٹالتے رہے، ا س دوران میری بیٹی کی تعلیم مکمل ہوگئی ،تو اس لڑکے نے کہا کہ تم یہاں آجاؤ ، اور میں یہاں جر منی میں تمہارا ایڈمیشن کروا دیتا ہوں، کیو نکہ ابھی میں فیملی ری یونین نہیں کر سکتا ،پھر یہ لو گ سا تھ ر ہے جس دورا ن اس نے اپنے گھر وا لوں کو کچھ کم پیسے بھیجے، جس کی وجہ سے اس کے ابّا اس سے ناراض ہو گئے ، ا ور ا س سے بات کرنا چھوڑدی ، اور کہا کہ تم اس لڑکی کو چھوڑ دو، یہ کرا چی کی ہے، ہم یہاں تمہا ری دوسری شادی کروادیں گے ، ا ور بھی بہت سے شکا یتیں کی ، یہ زیادہ جہیز نہیں د ے سکتے ،میں تمہاری شادی کسی جج کی بیٹی سے کروادوں گا ، جبکہ میرے دا ماد کے پا س اتنے بھی پیسے نہیں بچتے تھے کہ وہ اپنا ری یونین جمع کرسکے ، یا اپنی بیوی کو اس کا جیب خرچ دے ،میری بیٹی اپنے اسکا لر شپ کے پیسے بھی اس پر خرچ کر دیتی تھی ،دونوں نے ملکر ایک فلیٹ بھی سیٹ کیا ،اب و ہ نہ اس شادی کو مانتے ہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ تم اس کو چھوڑ دو ورنہ ہم سے تیر ا کوئی رشتہ نہیں ہوگا، اس پر میر ی بیٹی نے کہا کہ یہ خیال آپ لوگوں کو تین سا ل بعد آرہا ہے، اس دوران میرےا داما د نےوریٹ بھی پیائےگا ،ا ن کے آپس میں بھی ا س کے گھر والوں کی رویّے کی وجہ سے جھگڑ ے ہو نے لگے، ا س دوران اس کا بھا ئی بھی جرمنی آیا ، اور ا ن کے گھر رہنے لگا، میری بیٹی نے اس کا بھی بہت خیال ر کھا ،لیکن ان لو گوں نے کبھی بھی میری بیٹی کا خیا ل نہیں کیا ، ا ور اب تین سال بعد کہتے ہیں کہ اسے چھوڑ دو ،جس پر میری بیٹی نے کہا کہ اب میں بھی ان لو گوں سے کوئی واسطہ نہیں ر کھوں گی ،کیونکہ ا س کے ابّا گند ی گندی گالیاں د یتے ہیں ، لڑکے کے دوستوں سے میر ی بیٹی کی برائی کرتے ہیں، غلیظ باتیں کرتے ہیں، میری بیٹی نے کہا کہ اب میں بھی ان سے کوئی رشتہ نہیں رکھوں گی ،آپ اپنے گھر والوں سے ملیں ، ا ن سے ر شتہ ر کھیں، پیسے بھیجیں ،سب کریں ، مگر اب، میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ، اب وہ لوگ بھی میر ے گھر نہیں آ ئینگے، اس پر و ہ لڑکا کہتا ہے کہ وہ تو آئینگے، تم بھی ان سے بات کر و ،اس پر میری بیٹی نے کہا کہ جب وہ مجھے بہو نہیں مانتے ، ا ور تین سا ل بعد چھوڑ نے کا کہہ رہے ہیں تو اب مجھے بھی وہ سب قبول نہیں ،آپ یا تو مجھے چھوڑ دیں ،یا مجھے ا ن سے تعلق رکھنے پر مجبور نہ کریں ،لیکن و ہ کسی بھی بات پر تیار نہیں ،نہ نا ن نفقہ د یتا ہے اور نہ خلع ، اور نہ بات سنتا ہے ،اس صورت حال میں ہم خلع کا حق رکھتے ہیں ؟ براہ مہربانی جو اب عنایت فر مائیں ۔
نو ٹ :سائلہ سے فون پرمعلوم ہو اکہ مجلس نکاح اٹلی میں منعقدہو ئی تھی ،جس میں لڑکا،لڑکی ا ورشادی کے گوا ہان بذات خود موجودتھے اورا ن کے وا لدین نے آن لا ئن اس تقریب کودیکھا تھا،پھر اس کے بعدو ہ جرمنی منتقل ہوئے جہاں ا س کے بعدسے و ہ میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ہی گھرمیں رہائش پزیر ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صو ر ست مسئولہ میں اگر ا ولیاء کی رضامند ی ا ورا جازت سے شرعی گوا ہان کی موجودگی میں لڑکی اورلڑکے نےباقاعدہ ایجاب و قبول کیا تھا ، تو شرعاًمذکور نکاح درست منعقدہوچکا ہے،ا ن دو نوں پر میاں، بیو ی کی حیثیت سے ساتھ رہنے کے لیے با قاعدہ رخصتی کی تقریب منعقدکرنابھی ضروری نہیں ، چنانچہ اب محض شوہر کے وا لدین کےانکار ،ناراضگی یاتقریب رخصتی نہ ہو نے کی وجہ سے نکاح پرکوئی اثرنہیں پڑےگا، چنانچہ اب سائلہ کےدا ماد پراپنی بیوی کے حقوق ادا کرنا، خصو صاً نان و نفقہ، حسن معاشرت ا ور رہائش کا انتظام کر ناشرعاً لازم ہے ۔ بیان کردہ حالات میں اگر وا قعۃًسا ئلہ کادا ماداپنی بیوی کو مناسب نان و نفقہ نہ دے رہا ہو ا ورا زدواجی حقوق کی ادا ئیگی میں کو تاہی وغفلت برتنے کے ساتھ بیوی کو سکون سےساتھ رکھنے پر آمادہ نہ ہو، بلکہ معاملات مسلسل نز ا ع ا ور تکلیف کا سبب بن رہے ہوں، تو ایسی صورت میں اگرچہ سائلہ کی بیٹی کےلیے خلع کا مطالبہ کر نےیا فسخ نکاح کے لیےعد الت سے رجو ع کرنےکی شرعاً گنجائش موجودہے۔تاہم اس سے پہلے اصلاح کی ہر ممکن کو شش، بزر گوں کی مد اخلت ا ورباہمی صلح کی سنجیدہ تدبیر اختیار کرنا بہتر ہے، کیونکہ نکاح کو قا ئم رکھنا اصل مطلوب ہے۔لہذ ا میاں بیوی دونوں کو چا ہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، ایک دوسرے کے حقو ق پہچانیں اور خاند ا ن کے دباؤ کے بجائے عدل و ا حسان کو اختیار کریں۔ لیکن اگر مصالحت کی تمام ترکوشش کرنے کے باوجود ساتھ رہنا ممکن نہ رہے تو با وقار طریقے سے علیحدگی اختیار کرلی جائے، تاکہ مزید گناہ ا ور دل آزا ری سے بچا جا سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الد رالمختارشرح تنویرالابصار:(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق۔۔(ج: 3، كتاب النكاح، ص: 9،مط:سعیدکراچی)
وفی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع:ومنها المعاشرة بالمعروف، وأنه مندوب إليه، ومستحب قال الله تعالى: {وعاشروهن بالمعروف} [النساء: 19] قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: صلى الله عليه وسلم «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي» ، وقيل المعاشرة بالمعروف هي أن يعاملها بما لو فعل بك مثل ذلك لم تنكره بل تعرفه، وتقبله وترضى به، وكذلك من جانبها هي مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجها بالإحسان باللسان، واللطف في الكلام، والقول المعروف الذي يطيب به نفس الزوج، وقيل في، قوله تعالى {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف} [البقرة: 228] أن الذي عليهن من حيث الفضل والإحسان هو أن يحسن إلى أزواجهن بالبر باللسان، والقول بالمعروف، والله عز وجل أعلم.(ج:2،فصل المعاشرة بالمعروف،ص:334،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الفتا و یَٰ الھندیة: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية. إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.(ج:1،الباب الثامن في الخلع وما في حكمه وفيه ثلاثة فصول،ص: 488، مط: ماجدیة ؔ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94100کی تصدیق کریں
0     31
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • خلع لینے کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   خلع 3
  • خلع کے بدلے پوراحق مہرمعاف ہوگا یا آدھا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خلع 2
  • کورٹ کی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنے کے لئے رجوع کرنا

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی بنیاد پر عدت میں بیٹھنا

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کورٹ سے تنسیخ نکاح کی ڈگری لینے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کیا شوہر کے مارپیٹ کی وجہ سے بیوی خلع لے سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • مروجہ یکطرفہ عدالتی خلع کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • کیا خلع کے بعد عورت اپنے زیور اور حق مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد رجوع کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • اگر شوہر نہ طلاق دے اور نہ گھر بسائے تو یکطرفہ خلع سے نکاح ختم ہوجائے گا ؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • خلع کی صورت میں بیوی سے حق مہر اور دیگر گفٹ کردہ اشیاء واپس لینے کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • بیوی کا غلط الزامات لگا کر کورٹ سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 1
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد دوبارہ شوہر کے پاس جانا

    یونیکوڈ   خلع 0
  • باہمی رضامندی سے ہونے والے" خلع"کی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 0
  • یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • خلع کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے چھٹکارے کا طریقہ

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعدکیے گئے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالتی خلع حاصل کرنا

    یونیکوڈ   خلع 1
  • عدالتی خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
Related Topics متعلقه موضوعات