میرا نکاح بعوض حق مہر معجل (ادا شدہ) 3 تولہ سونا (م)کے ساتھ بتاریخ 26 جولائی 2020 کو ہوا , کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر رخصتی نہ ہو پائی اور( م ) نے فیملی کورٹ میں تنسیخِ نکاح کا دعوی دائر کیا جو کہ 3 مارچ 2021 کو خلع کی بنیاد پر %50 حق مہر کی واپسی کے ساتھ ڈگری ہوا , 25 جولائی 2021 سے میرا(م) سے دوبارہ ٹیلی فون رابطہ رہا ہے , کورٹ کے فیصلہ کے مطابق میں نے آدھا حق مہر بتاریخ 13 اکتوبر 2021، وصول پالیا اور دستاویز پر دستخط کر دیے , میرا اس کے ساتھ کوئی لین دین نہیں , یہ خلع ابھی تک یونین کونسل میں رجسٹرڈ نہیں , اب وہ اور میں دوبارہ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ اگر سائل یا اس کا وکیل نے عدالت میں حاضر ہو کر خلع کے کاغذات پر اپنی مرضی سے دستخط کر دیے ہوں، تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے، تاہم اگر دونوں باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں، تو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرنے کےبعد ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، مگر اس کے بعد سائل کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کمافي الدر المختار: (و) حكمه أن (الواقع به) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصريح (على مال طلاق بائن) وثمرته فيما لو بطل البدل كما سيجيء.(3/444)
وفی الھندیة: الباب الثامن في الخلع وما في حكمه وفيه ثلاثة فصول الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين. اھ (1/488)
وفی بدائع الصنائع: فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية. اھ (3/187)