بخدمت جناب مفتی صاحب ،
جناب عالی! گزارش ہے کہ میں اسد خان ولد نوران بادشاه ، شناختی کارڈ نمبر: 9-2591777-42401 سکنہ مکان نمبر 82 M-II-E گلی نمبر 47 ،محلہ شیر شاہ کالونی محمدی روڈ ، کراچی کا رہائشی ہوں ، جناب میں ایک لڑکی کو پسند کرتا تھا ، جس کا نام سلمہ بی بی ولد سلطان محمد ہے ، ہم نے آپس میں کورٹ میرج کر لی، میری شادی کے بعد ہم دونوں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش تھے اور ہمارے تین بچے بھی ہیں، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ، ہماری شادی کے آٹھ سال بعد اس کی امی کا انتقال ہو گیا ،پھر میرا میرے سسرال میں آنا جانا شروع ہو گیا ، ایک دن مجھے میری بیوی نے کہا کہ مجھے اپنے رشتہ داروں سے ملنا ہے ، پھر میں اس کو اس کے رشتہ داروں کے گھر چھوڑ آیا ، وہاں سے میں جب اس کو گھر لے کر آیا تو ہم دونوں کے درمیان آپس میں اس کے رشتہ دار کے شوہر کی وجہ سے توں توں میں میں ہو گئی ،اس سے دو دن بعد مجھے اس نے کہا کہ میں اپنے بھائی کے گھر جانا چاہتی ہوں ، کیونکہ میرے ابو کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے ، پھر میں اس کو اس کے بھائی کے گھر چھوڑ کر آ گیا ،اس نے مجھے کہا کہ میں دو دن بعد واپس آجاؤ نگی، میں خود اس کو اس کے بھائی کے گھر چھوڑ کر آیا، دو دن بعد میری امی اس کے بھائی کے گھر گئی ، اس کو کہا کہ تم گھر آجاؤ ،تو اس کے بھائی نے کہا 20 دن کے بعد ہم جرگہ بٹھائیں گے اور آپ سے کچھ مطالبات لکھوائیں گے ، پھر ہم آپ کو اپنی بیٹی دینگے ،تو انہوں نے مجھ پر 12 دن میں ہی کورٹ کیس کر دیا اس میں میری بیوی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ، کیونکہ ہم نے آپس میں پسند کی شادی کی تھی ،جب میں نے اپنے بڑے سالے کو کال کی جس کا نام نور اسلام ہے ،تو اس نے کال پر کہا کہ ابھی تو ہمیں موقع ملا ہے، ہم آپ سے اپنی بہن چھڑوا کر رہیں گے ،چاہے اس کی رضامندی ہو یا نہ ہو ،میری وائف کو اس کے بھائیوں نے اتنا پریشر ائز کیا کہ اگر تم نے کورٹ میں ہمارے خلاف بیان دیا تو ہم تمہیں اور تمہارے شوہر کو جان سے مار دینگے ، پھر انہوں نے کورٹ سے خلع لے لی ، جبکہ میں نے اس کو اپنے منہ سے خلع نہیں دی ،اس کے بعد بھی میں نے ان کو فون کیاکہ یہ شریعت میں جائز نہیں ہے ، شریعت کورٹ کی خلع کو نہیں مانتی ، میں نے ان کی بہت منت سماجت کی انہوں نے نہیں مانا ،میں نے کورٹ کیس کے درمیان تین ماہ تک ان کے لئے جرگہ بٹھایا، مگریہ لوگ جرگہ کو اگنور کرتے رہے اور یہ لوگ کورٹ سے ڈگری لینے کے چکر میں تھے ، کہ میں اسد خان اپنے پورے ہوش و حو اس میں بیان دیتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو منہ سے طلاق نہیں دی ،وہ کل بھی میری نکاح میں تھی اور آج بھی میرے نکاح میں ہے ،میری آپ جناب سے گزارش ہے کہ میری درخواست پر نظر ثانی کی جائے اور مجھے انصاف دلوایا جائے ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس کی صحت کے لئے فریقین کا باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول کرنا شرط ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے واقعۃً خود یا اپنے وکیل کے ذریعہ اس خلع پر رضامندی کا اظہار نہ کیا ہواور نہ ہی ان میں سے کسی نے خلع کے کاغذات پر دستخط کئے ہوں ، بلکہ عدالت کی جانب سےیکطرفہ کاروائی کرکے یہ خلع کی ڈگری جاری کی گئی ہو، تو ایسی صورت میں اس یکطرفہ خلع کی ڈگری کے اجراء کے باوجود شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ حسب سابق برقرار ہے، لہذا سائل کے سسرال والوں کو چاہیئے کہ وہ میاں بیوی کے درمیان بلا ضرورت ان کی سابقہ غلطی کی وجہ سے تفریق نہ ڈالیں ، کہ اس کے نتیجہ میں ان کی بہن اور بچوں کا مستقبل تباہ ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے،بلکہ میاں بیوی کا گھر بسانے کی فکر کریں، تاکہ وہ اخروی پکڑسے محفوظ ہو سکیں ، جبکہ اس خلع کو بنیاد بناکر سائل کی بیوی کا کسی دوسری جگہ نکاح کرنا بھی درست نہ ہوگا ۔
كما في أحكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اهـ (ج 3، ص153 ، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
وفي الفتاوى التاتارخانية : الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ (الفصل السادس عشر في الخلع، ج 3، ص 453، إدارة القرأن)-
وفي بدائع البدائع : أن الخلع في معنى المبارأة ؛ لأن المبارأة مفاعلة من البراءة والإبراء إسقاط فكان إسقاطا من كل واحد من الزوجين الحقوق المتعلقة بالعقد المتنازع فيه كالمتخاصمين في الديون الخ (فصل في الطلاق على مال، ج 3، 151، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-