ترجمہ :اگر عدالت عورت کو خلع دیتی ہے مرد کی موجودگی میں عورت کا کہنا ہے کہ نہ یہ وسائل پورے کرسکتا ہے ،نہ ازدواجی زندگی کے احکام پورے کرسکتا ہے ،اور جیسے غیر مردوں کو لانا ،اور مار پیٹ کرنا ،تو اس وجہ سے عورت کو عدالت خلع دے دیتی ہے لیکن مرد کچھ نہیں بولتا ،تو کیا ایسی صورت میں خلع ہو گئی ؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو شوہر کا بیوی کے حقوق وغیرہ کی ادائیگی نہ کرنا،اور بلاوجہ مار پیٹ کرنا ،اور غیر مردوں کوگھر میں لانا ، شرعاً ناجائز اور حرام عمل ہے جس سے اجتناب لازم ہے ،
البتہ جہاں تک مذکور اعذار کی بناء پر خلع لینے کا تعلق ہے ،تو واضح ہو کہ خلع کے متحقق ہونے کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ،جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتا ہے ،لہذا اگر مذکور عورت نے عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی ہو ،جس پر اس کے شوہر نے دستخط کرکے رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو تو شرعاً یہ خلع معتبر نہیں بلکہ دونوں کا نکاح حسب سابق برقرار ہے ،تاہم اگر شوہر بیوی کے حقوق کی ادائیگی نہ کرتا ہو تو خاندان کے با اثر افراد کے ذریعے اسے طلاق پر آمادہ کیا جاسکتا ہے ۔
فی الشامیۃ : (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، و لا يستحق العوض بدون القبول،اھ(3/441)