آسلام و علیکم: خلع کے متعلق سوال پوچھنا چاہتا ہوں میری بیوی نے میری غیر موجودگی میں میری رضا مندی کے بغیر اور مجھے کسی قسم کا نوٹس بھیجے بغیر عدالت سے یکطرفہ ڈگری لے کر فوراً دوسرا نکاح بھی کر لیا شریعت کی روح سے اس پر احکام صادر کریں ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جسکی صحت کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو کہ عدالتی خلع کی یکطرفہ دیگریوں میں عموما مفقود ہوتی ہے، جسکی وجہ سے ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجو د شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ حسب سابق قائم رہتا ہے، اس لیےمحض اس ڈگری کوبنیاد بناکر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا درست نہیں۔
تاہم اگراس کورٹ کیس کی مکمل تفصیل کسی قریبی دارالافتاء میں جمع کرکے خاص اس سے متعلق حکم شرعی معلوم کرلیاجائے، تو یہ زیادہ بہترہے۔
کما في المبسوط لشمس الدين السرخسي :
(قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لانه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود وهو منزلة الطلاق الخ ( ج: 1 ص: ١٣)-