میں نے اپنے شوہر محمدعقیل احمدولدمنیر احمد سے عدالت کے ذریعے خلع مانگی مگر انہوں نے عدالت میں مجھے خلع دینے سے انکار کردیا اور میرے خلع لینےکی وجوہات کی تردید کردی ،جس پر جج صاحب نے خلع کا فیصلہ دینے سے انکار کردیا اور میرے شوہر کو چھ مہینے کا وقت دیا کہ وہ مجھے راضی کرسکتے ہیں تو کرلیں ،جس پر میرے شوہر نےعمل بھی کیا ،لیکن پھر بھی میں نے اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں عدالت کے ذریعے خلع حاصل کرلی جس کا میرے شوہرکو کوئی علم نہیں تھا بلکہ میرے والد نے بعد میں انہیں موبائل پر واٹس ایپ کے ذریعے عدالت کے فیصلہ کی کاپی بھیجی ،میرے شوہر نے نہ تو عدالت کےدیئے گئے خلع کے ٖفیصلہ کےکاغذات پراپنےدستخط کئے اور نہ ہی کسی بھی شخص کے سامنےاپنی زبان سے خلع دینے کا اقرار کیا،جبکہ میں نے خلع حاصل کرنے کے بعد عدت کے دن بھی گذار لئے ہیں ،اب آیا کہ میں نے جو خلع عدالت کے ذریعےحاصل کی ہے وہ عین شریعت کے مطابق ہوگئی ہے یا نہیں ؟اور اب اگر میں دوسری شادی کرتی ہوں تو یہ شادی جائز ہوگی یا کہ زنا میں شمار ہوگی ؟
واضح ہوکہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبل شرط ہے ،لہذا شوہر کا بروئے عدالت خلع دینے سے انکار اور صلح صفائی پر اصرار کے باوجود اگر سائلہ نے عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو ،جس پر سائلہ کے شوہریا اس کی جانب سے مقرر کردہ کسی وکیل نے دستخط نہ کئے ہوں اور نہ زبانی اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو تو ایسی صورت میں اس یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری کے جاری ہونے کے باوجودبھی شرعاً سائلہ کا نکاح اپنے شوہر سے ختم نہیں ہوا بلکہ حسب سابق برقرار ہے ،جبکہ سائلہ کیلئے مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا بھی شرعاً جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ۔
فی الشامیۃ:(قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول اھ(3/441)
وفی المبسوط للسرخسي:(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض اھ(6/173)