السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ میری بیوی نے کورٹ سے خلع لیا ہے , اب میری بیوی دوبارہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے , خلع لیے 45 دن ہوگئے ہیں, اس پر شریعت کا کیا حکم ہے ؟ برائے مہربانی اس پر میری رہنمائی فرمائیں - جزاک اللہ
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کے کیلئے میاں بیوی کی رضامندی لازم ہے ، جو کہ عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتی ہے ، لہذا اگر سائل یا اس کے وکیل نے مذکور خلع پر دستخط یا رضامندی ظاہر نہ کی ہو تو مذکور ڈگری جاری ہونےکے باوجود سائل اور اسکی بیوی کا نکاح بدستور قائم ہے ، لہذا اگر وہ دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے کسی قسم کے نکاح وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے , وہ حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں -