السلام علیکم!میرانام شعیب ولد ریاض احمد ہے ، میری شادی 2015 ،31 دسمبر کو مریم بنت محمد سعید سے ہوئی ، اور ہمارے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ، مگر شروع دن سے ہی مریم بنت سعید نے کہا کہ میں شعیب ولد ریاض کے ساتھ نہیں رہ سکتی ،کئی بار صلح صفائی کروانے کے باوجود بھی مریم کا میرے ساتھ (شعیب ولد ریاض )اور میرا (مریم بنت محمد سعید )کے ساتھ رہنا مشکل ہے ، مسئلہ یہ ہےکہ حق مہر میں شعیب ولد ریاض احمد نے مریم بنت محمد سعید کو ایک تولہ سونا (بصورت زیور)ادا کر دیاتھا ، اور منہ دکھائی میں میں نے مریم بنت محمد سعید کو مبلغ 25000 ہزار روپے سونے کی چین دی تھی ، منگنی پر ½ تولہ کی انگوٹھی مریم بنت محمد سعید کو دی تھی ،مریم بنت محمد سعید نے بھی کئی بار علیحدگی (خلع)کا کہا ہے ، اور حاضر مجمع کے سامنے کہا ہے ، میں شعیب ولد ریاض بھی مریم بنت سعید سے خلع لینا چاہتا ہوں ، رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں اپنا تمام زیور جو میں نے حق مہر کے علاوہ دیا تھا وہ واپس لے سکتا ہو ں یا نہیں ؟ لہذا اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں ۔
اولاًتو سائل اور اسکی بیوی کو چاہیئے کہ طلاق اور خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار کر نے کے بجائے چھوٹی موٹی معمولی باتوں کو نظر انداز کر کے گھر بسانے کی کوشش کریں ، لیکن اگر باوجود کوشش کے نباہ ممکن نہ ہو اور دونوں میاں بیوی حدوداللہ کی رعایت رکھتے ہوئے اس رشتے کو بر قرار نہیں رکھ سکتے ہوں تو ایسی صورت میں طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کی جاسکتی ہے ، جبکہ غلطی اور کمی کوتاہی اگر سائل کی طرف سے ہو رہی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لئے طلاق یا خلع کے عوض بیوی سے کسی قسم کا کوئی مال وغیرہ لینا درست نہیں ،جس سے اجتناب لازم ہے ، البتہ اس رشتے کو ختم کرنے میں غلطی اور کمی کوتاہی سائل کی بیوی کی ہو تو ایسی صورت میں سائل بیوی سے بدل خلع "کے طور پر حق مہر میں دیے گئے سونے کے علاوہ مزید سونے کا بھی مطالبہ کر سکتا ہے ، تاہم اس صورت میں حق مہر کے علاوہ اضافی کچھ لینا مناسب نہیں، اس لئے سائل کو مہر کی وصولی کے علاوہ مزید کچھ لینے کے مطالبات سے اجتناب کر نا بہتر ہے ۔
کمافی المبسوط: ثم الأصل في الخلع أن النشوز إذا كان من الزوج، فلا يحل له أن يأخذ منها شيئا بإزاء الطلاق لقوله تعالى {وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج} [النساء: 20] إلى أن قال: {فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20]، وإن كان النشوز من قبلها، فله أن يأخذ منها بالخلع مقدار ما ساق إليها من الصداق لقوله تعالى {، فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]، ولو أراد أن يأخذ منها زيادة على ما ساق إليها، فذلك مكروه في رواية الطلاق، وفي الجامع الصغير يقول: لا بأس بذلك ( باب الخلع، ج 6، ص 183، ط : مطبة السعصادة، مصر)-