درخواست براہِ خلع:لڑکی کا نام ،دعا بنت محمد سعید ،لڑکے کا نام محمد عاقب بن عبدالسعید،نکاح 20 مارچ 2020 کو ہوا ، اور رخصتی 28 جون 2020کو ہوئی، میکے واپسی مئی 2023 ،بیٹے کی پیدائش 2 دسمبر2021 , خلع بذریعۂ عدالت 4 مئی 2024 ،شوہر نان ونفقہ خرچہ با لکل نہیں دیتا تھا، بچے کے دودھ کے لئے بھی پیسے نہیں دیتا تھا ،اور ماں بہن کے کہنے پر ہاتھ اٹھاتا تھا ،ساس نند بھی ظلم کر تی تھیں ،شوہر بیوی کے جسمانی حقوق تک ادا نہیں کرتا ،3سال کے عرصے میں شوہر کبھی میکے تک لے کر نہیں آیا اور شوہر ٹھیک سے کماتا نہیں تھا ،اور اگر کچھ کماتا تو وہ بھی ماں کے ہاتھ میں رکھتا ،بیوی کو کچھ نہیں دیتا تھا ،حق مہر کی ادائیگی تک نہیں کی , (25000) جہیز کا سامان بیج ڈالا ،ساس نند باربار طلاق کی دھمکی دیتیں اور گھر سے نکالنے کا کہتیں ،بچے کے شدید بیمار پڑنے پر علاج کروانے کی بجائے لڑکی اور بچے کو میکے چھوڑدیا ،لڑکے والوں نے آج تک قاضی کو نکاح کی نہ فیس دی ،نہ ہی نکاح نامہ لیا ،یہاں تک کہ لڑکے کی ماں کا کہنا ہے کہ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ نکاح ہوا ہے کیونکہ نہ نکاح نامہ ہے نہ قاضی ،بہت تنگ آکر لڑکی نے اور اس کے گھر والے نے علیحدگی کا فیصلہ کیا ، جب بھی لڑکی کے گھر والے لڑکے کے گھر جاتے اور کہتے کہ اپنی بہو کو لینے آجائیں یا پھر طلاق دے دیں ،پورا سال گذرنے کے بعد بھی نہ شوہر ملنے یا لینے آیا ،نہ ہی ایک فون کیا ،گویا اس کو بیوی کی کوئی ضرورت نہیں ،یعنی اس نے دستخط نہیں کیے، اس لئے مجبوراً عدالت کی مدد لینی پڑی تاکہ لڑکی کا کہیں بہتر جگہ نکاح کر سکیں ۔
نوٹ:عدالتی سمن کے باوجود شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوا اور عدالت نے یکطرفہ ڈگری جاری کردی ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ ِمالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے ،جو عموماً عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے ،لہذا اگر سائلہ نے اپنے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو اس یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود سائلہ کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور برقرار ہے ، لہذا مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کی بنیاد پر سائلہ کا دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائزنہیں ، البتہ اگر واقعۃً سائلہ کا شوہر باوجود قدرت کے , بیوی کے حقوق اور نان و نفقہ کی ادائیگی نہ کر رہا ہو جس کی وجہ سے بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو ،تو ایسی صورت میں سائلہ خاندان کے بڑوں کے ذریعے طلاق بالمال یا خلع شرعی پر شوہر کو آمادہ کر کے اس سے خلاصی حاصل کر ے، لیکن اگر شوہر نہ تو حقوق ادا کر رہا ہو اور نہ ہی طلاق یا خلع دینے پر راضی ہو ،تو ایسی صورت میں شوہر متعنت کہلائے گا، اور متعنت کی بیوی کو عدالت کے ذریعے فسخِ نکاح کا اختیار ہے ، جس کا طریقہ کار یہ ہیکہ سائلہ عدالت میں خلع کے بجائے فسخِ نکاح کی درخواست جمع کرائے اور قاضی قانونی کاروائی کرنے کے بعد خلع کے بجائے فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کرے ،چنانچہ فسخِ نکاح کی ڈگری جاری ہونے پر عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہو جائیگا اور عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔
کما قال اللہ تعالی: وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا الآیۃ (آیت 20 سورۃ النساء)
وفی الدر المختار: (ومحلہ المنکوحۃ) وأھلہ زوج عاقل بالغ مستیقظ (إلی قولہ) (اکرھھا) الزوج (علیہ تطلق بلا مال) لأن الرضا شرط للزوم المال وسقوطہ الخ (کتاب الطلاق باب الخلع ج 3 صـ 230- 446 ط: سعید)
وفی رد المحتار: تحت (قوله وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير، وبالعاقل ولو حكما عن المجنون والمعتوه والمدهوش والمبرسم والمغمى عليه، بخلاف السكران مضطرا أو مكرها، وبالبالغ عن الصبي ولو مراهقا، وبالمستيقظ عن النائم. وأفاد أنه لا يشترط كونه مسلما صحيحا طائعا عامدا فيقع طلاق العبد والسكران بسبب محظور والكافر والمريض والمكره والهازل والمخطئ كما سيأتي اھ (کتاب الطلاق باب الخلع ج3 صـ 230 ط: سعید)
وفی بدائع الصنائع: والثانية أنه من جانب الزوج يمين وتعليق الطلاق بشرط وهو قبولها العوض ومن جانبها معاوضة المال وهو تمليك المال بعوض حتى لو ابتدأ الزوج الخلع فقال: خالعتك على ألف درهم لا يملك الزوج الرجوع عنه ولا فسخه ولا نهي المرأة عن القبول، ولا يبطل بقيامه عن المجلس قبل قبولها ولا یشرط حضور المرأة بل يتوقف على ما وراء المجلس حتى لو كانت غائبة فبلغها فلها القبول (إلی قولہ) وأما رکنہ فھو الإیجاب والقبول لأنہ عقد علی الطلاق فلا تقع الفرقۃ ولا یستحق العوض بدون القبول الخ (کتاب الطلاق فصل فی رکن الطلاق ج 3 صـ 145 ط: دار الکتب العلمیۃ)
وفی الھدایۃ: وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به(باب الخلع ج 2 ص96 ط: انعامیہ)۔
وفی الحیلۃ الناجزۃ: ان المتعنت اذا رجع عن التعنت بعد العدۃ فالمرأۃ لاترجع الیہ بحال کما ھو مذکور فی ھذاالمقام الغائب المطلق علیہ اذا قدم بعد العدۃ واثبت خلاف ما ادعتہ فالمرأۃ لہ وان عاند بعد ما ارسل الیہ الحاکم(ص73 ط : دارالاشاعت)۔