شوہر نے خلع کے لئے سائن نہیں کرا تو کیا خلع واقع ہوگئی ہے ؟ جبکہ شوہر نہیں ختم کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی میں ، میں واپس بھی جانا چاہتی ہوں ، لیکن گھر والے مجھ سے زبردستی کررہے ہیں ، 15 فروری کو ہوئی تھی لیکن ہم سے پہلے میں اور میرے شوہر ہم نے بہت کہا کہ ختم نہ کریں ، لیکن نہیں مانا کوئی ، میں نے فتوی بھی دیکھا تھا کہ شوہر راضی نہ ہو تو نہیں ہوسکتی ، اور نکاح کے وقت شریعت میں طلاق کی کالم میں " نہیں " لکھا گیا ہے تو اس حساب سے بھی میں نہیں لے سکتی، مجھے واپس جانا ہے ، میرے شوہر نے ہر طرح سے معافی مانگی ہے ،لیکن میرے گھر والے نہیں سن رہے، میں واپس جانا چاہتی ہوں ، میں نے جلد بازی کرکے اپنا گھر چھوڑا ، میرے ہی کہنے پر میرے گھر والوں نے یہ قدم اٹھایا لیکن صلح کا کہنے کے باوجود وہ سن نہیں رہے ، پلیز مجھے واپس جانا ہے ، ایک مفتی صاحب نے بھی کہا کہ آپ جاسکتی ہیں، میرے شوہر نے بھی جامعہ اشرفیہ کے مفتی سے بات کری تھی انہوں نے بھی کہا کہ آپ بُلوا لیں نکاح ہوجائیگا سب صحیح ہوجائیگا معاملہ ، میں نے استخارہ بھی کرا تھا میرے مفتی صاحب کے کہنے کے بعد حق میں آیا تھا ، لیکن میری نہیں سن رہا کوئی ، میری مدد کریں جزاک اللہ میں بہت تکلیف میں ہوں۔ جزاک اللہ !
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کی درستگی کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے لہٰذا اگر سائلہ کے شوہر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے واقعۃً خلع کے کاغذات پر نہ دستخط کیے ہوں ، اور نہ ہی اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو تو ایسی صورت میں عدالت کی جانب سے جاری کردہ یکطرفہ خلع کی ڈگری سے چونکہ میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا ، بلکہ بدستور برقرار ہے ، اس لئے میاں بیوی بغیر تجدیدِ نکاح کیے حسبِ سابق ساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں ، جبکہ سائلہ کے گھر والوں کا شوہر کے معافی اور صلح صفائی کی کوشش کے باوجود سائلہ کے چاہتے ہوئے بھی اس کا شوہر کے ساتھ گھر بسنے نہ دینا شرعاً ناجائز ہے ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار بھی ہورہے ہیں ، جس پر انہیں بصدقِ دل توبہ و استغفار کرتے ہوئے میاں بیوی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا راہ ہموار کرنی چاہیئے۔
کما فی احکام القرآن للجصاصؒ: قال اصحابنا انھما لایجوز خلعھما الا برضی الزوجین لان الحاکم لا یملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان ( الی قولہ ) وکیف یجوز للحکمین ان یخلعا بغیر رضاہ و یخرجا المال عن ملکھا اھ (ج2 ص191باب الحکمین کیف یعملان ط:اکیڈیمی لاھور باکستان)۔
وفی رد المحتار تحت ( قولہ و شرطہ کالطلاق ) وھو اھلیۃ الزوج وکون المرأۃ محلاً للطلاق منجزا،او معلقا علی الملک واما رکنہ فھو کما فی البدائع،اذا کان بعوض الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوض،فلا تقع الفرقۃ،ولا یستحق العوض بدون القبول الخ ( ج3 ص441 باب الخلع ط: سعید )۔
وفی فتاوی التاترخانیۃ : فی المخلص والایضاح:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیھا العوض الخ ( ج5 ص5 کتاب الطلاق الفصل السادس عشر فی الخلع ط:زکریا )۔واللہ اعلم