ایک خاتون جس نے کہا کہ میں کسی بھی دبا ؤکے بغیر خلع اپنی مرضی سے لے رہی ہوں اور میرا کسی قسم کا مطالبہ نہیں ہے اب اگربعد میں وہ اپنے زیور کا اور حق مہرکا مطالبہ کررہی ہے تو دیا جائیگا یانہیں؟ اگر دیا جائیگا توآج کے حساب سے دے یا جب خلع ہوئی اس حساب سے دیں۔
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکور خاتون نے شوہر سے واقعۃً خلع لیا ہے یا نہیں اگر لیا ہے تو بدل خلع کیا چیز ٹھرائی تھی، تاہم اگر مذکورخاتون نے اپنے شوہر سے حق مہر اور زیور کے بدلے خلع لیا تھا تو اب وہ حق مہر اور زیور کا مطالبہ نہیں کر سکتی اسے اپنے اس مطالبہ سے باز آنالازم ہے، لیکن اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ بھیج دیں تو اس پر غور کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
کمافی الدرالمختار: (و) حكمه أن (الواقع به) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصريح (على مال طلاق بائن) وثمرته فيما لو بطل البدل كما سيجيء.(3/444)
وفی بدائع الصنائع: وإن كان ببدل فإن كان البدل هو المهر بأن خلعها على المهر فحكمه أن المهر إن كان غير مقبوض أنه يسقط المهر عن الزوج، وتسقط عنه النفقة الماضية، وإن كان مقبوضا فعليها أن ترده على الزوج، وإن كان البدل مالا آخر سوى المهر فحكمه حكم سقوط كل حكم، وجب بالنكاح قبل الخلع من المهر، والنفقة الماضية، ووجوب البدل حتى لو خلعها على عبد أو على مائة درهم، ولم يذكر شيئا آخر فله ذلك ثم إن كان لم يعطها المهر برئ، ولم يكن لها عليه شيء سواء كان لم يدخل بها أو كان قد دخل بها، وإن كان قد أعطاها المهر لم يرجع عليها بشيء سواء كان بعد الدخول بها أو قبل الدخول بها، وكذلك إذا بارأها على عبد أو على مائة درهم فهو مثل الخلع في جميع ما وصفنا، وهذا قول أبي حنيفة.(3/151)