سر، میں 2017 سے فری لانسنگ کر رہا ہوں اور یہی میرا ذریعۂ معاش ہے، اسی حوالے سے آپ سے رہنمائی چاہ رہا ہوں، فائیور اور دیگر فری لانس پلیٹ فارمز پر گگز کو پروموٹ کرنے کے لیے لوگ ریویوز لیتے ہیں، میں بھی ریویوز لیتا ہوں، جس کی وجہ سے ہماری گگ کلائنٹس کو نظر آتی ہے اور وہ ہم سے کام کے حوالے سے رابطہ کرتے ہیں، پھر ہم ان کی ضرورت کو سمجھ کر ان سے کام لیتے ہیں،میں اپنی گرافک ڈیزائن کی سروسز کلائنٹس کو ٪100اصل اور اچھی کوالٹی کے ساتھ فراہم کرتا ہوں، اور کلائنٹس عموماً ٪100مطمئن ہوتے ہیں، اگر وہ مطمئن نہ ہوں تو ان کے پاس کام منسوخ کرنے کا اختیار بھی ہوتا ہے، زیادہ تر کلائنٹس امریکہ اور برطانیہ سے ہوتے ہیں،براہِ کرم رہنمائی فرما دیں کہ:کیا گگ کو پروموٹ کرنے کے لیے اس پر ریویوز لینا حلال ہے یا حرام؟
کیونکہ اسی وجہ سے گگ کلائنٹس کو نظر آتی ہے، جس سے کلائنٹ کام دیتا ہے، ورنہ گگ نظر نہیں آتی اور کام آنے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں،اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر کام آتا ہی نہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر "ریویوز" حقیقی اور دیانت دارانہ ہوں، یعنی جن افراد نے واقعی سائل سے سروس حاصل کی ہو ، وہی اپنے تجربے کی بنیاد پر تبصرہ کریں، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
البتہ اگر گگ کو اوپر لانے کے لیے ایسے مصنوعی ریویوز حاصل کیے جائیں جن میں حقیقت کے خلاف یہ تاثر دیا جائے کہ فلاں شخص نے سائل کی سروس استعمال کی ہے، حالانکہ اس نے استعمال نہ کی ہو، تو یہ دھوکہ پرمبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، اگرچہ بعدمیں سائل حقیقتاً کلائنٹس کو معیاری اور اصل سروس ہی فراہم کرتا ہو۔
لہٰذا سائل کو اپنے کاروبار کی تشہیر کے لیے جائزذرائع اختیار کرنا اور جعلی ریویوز سے اجتناب کرنالازم ہے ۔
کما فی مصنف ابن ابی شیبۃ : حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسحاق الأزرق عن هشام عن الحسن ومحمد أنهما قالا: الغش حرام (باب ماذکرفی الغش، ج:11، ص:655، رقم:23607، م:ادارۃ القرآن الخ)
وفی سنن ابی داوٗد : عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مرَّ برجل يبيعُ طعاماً، فسأله "كيف تبيعُ؟ " فأخبره، فأُوحيَ إليه: أَدخِل يدَك فيه، فأدخَلَ يدَه فيه، فإذا هو مبلُولٌ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس منَّا مَن غَشَّ ( باب فی النھی عن الغش، ج:2، ص:1326، رقم:3452، م:البشرٰی)
وفي تكملة فتح الملہم : عن ابی ھریرۃ قال نھی رسول اللہ ﷺ عن بیع الحصاۃ وعن بیع الغرر ۔
قولہ : "وعن بیع الغرر"تعمیم بعد تخصیص لیعم الحکم سائر انواع الغرر،۔۔ الغرر : مالہ ظاھر تؤثرہ وباطن تکرھہ، فظاھرہ یغر المشتری وباطنہ مجھول،وقد وردت فی الاحادیث والاثار امثلۃ کثیرۃ من بیع الغرر الخ، (باب بطلان بیع الحصاۃ والبیع الذی فیہ غرر، ج:1، ص:317، م:دارالعلوم کراچی)