گناہ و ناجائز

چہرہ کے علاج کیلئے داڑھی منڈوانے کا حکم

فتوی نمبر :
93975
| تاریخ :
2026-04-09
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

چہرہ کے علاج کیلئے داڑھی منڈوانے کا حکم

السلام علیکم!میرا ایک مسئلہ ہے جس میں شرعی رہنمائی درکار ہے، جوانی میں نادانی اور لاپرواہی کی وجہ سے میں اپنے چہرے کے دانوں (pimples) کو چھیڑتا رہا ہوں، جس کے نتیجے میں اب میرے چہرے پر گہرے زخموں کے نشانات (acne scars) بن گئے ہیں،میں اب ان نشانات کے علاج کے لیے ایک باقاعدہ طبی عمل (Medical Procedure) شروع کروانا چاہتا ہوں، جس میں 'CO2 Laser' اور 'TCA Cross' جیسے طریقے شامل ہیں، ماہر امراضِ جلد (Dermatologist) کا کہنا ہے کہ یہ علاج اسی صورت میں کامیاب اور محفوظ ہو سکتا ہے جب چہرہ بالکل صاف (clean-shave) ہو،اگر چہرے پر بال ہوں گے تو لیزر اور دوائی جلد کے اندر صحیح اثر نہیں کر سکے گی اور انفیکشن (Infection) کا خطرہ بھی رہے گا،میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طبی ضرورت (Medical Necessity) کے تحت، علاج کی مدت تک داڑھی منڈوانا میرے لیے جائز ہے؟ میری نیت سنت کی مخالفت کرنا یا فیشن کرنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ صرف اپنا چہرہ ٹھیک کرنا ہے۔ کیا اس حالت میں مجھ پر کوئی گناہ ہوگا؟جزاک اللہ خیر۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ میں ایک مشت داڑھی رکھنا واجب اور اس سے کم کرنا ناجائز اور سخت گناہ ہے، متعدد احادیثِ مبارکہ میں داڑھی رکھنے کا صریح حکم وارد ہوا ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں چہرے کے مذکورہ نشانات کے علاج کے لیے داڑھی کو ایک مشت سے کم کرنا یا منڈوانا کسی بھی حال میں جائز نہیں؛چنانچہ سائل کوچاہیےکہ وہ چہرے کےان نشانات کومٹانے کےلیےCO₂ Laser، TCA Cross وغیرہ کے استعمال کے بجائے کوئی ایسا متبادل طریقہ اختیار کرے جس میں داڑھی کاٹنے کی ضرورت نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في تكملة فتح الملهم: والحاصل أن كل ما يفعل في جسم من زيادة أو نقص من أجل الزينة بما يجعل الزيادة أو النقصان مستمرا مع الجسم وبما يبدو منه أنه كان في أصل الخلقة هكذا فانه تلبيس وتغيير منهي عنه وأما ما تزینت به المرأة لزوجها من تحمیر الأیدی أو الشفاه أو العارضیین بما لا یلتبس بأصل الخلقة فإنه لیس داخلا فی النهی عند جمهور العلماء، وأما قطع الإصبع الزائدة ونحوها فإنه لیس تغییرا لخلق اللہ وإنه من قبیل إزالة عیب أو مرض ، فأجازه أكثر العلماء خلافا لبعضهم اھ (كتاب اللباس والزينة، ج: ٤،ص: ١٩٦، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)
وفي البحرالرائق: وقال أصحابنا الإعفاء تركها حتى تكث وتكثر والقص سنة فيها، وهو أن يقبض الرجل لحيته فما زاد منها على قبضة قطعها كذلك ذكر محمد في كتاب الآثار عن أبي حنيفة قال: وبه نأخذ وذكر هنالك عن ابن عمر أنه كان يفعل ذلك اھ(باب الجنايات في الحج، ج: ٣، ص: ١٢، ط: دار الكتب الاسلامى)
وفيه ايضاََ: ولا يفعل لتطويل اللحية إذا كانت بقدر المسنون، وهو القبضة كذا في الهداية وكان ابن عمر يقبض على لحيته فيقطع ما زاد على الكف رواه أبو داود في سننه وما في الصحيحين عن ابن عمر عنه عليه الصلاة والسلام «أحفوا الشوارب واعفوا اللحى» فمحمول على إعفائها من أن يأخذ غالبها أو كلها كما هو فعل مجوس الأعاجم من حلق لحاهم فيقع بذلك الجمع بين الروايات، وأما الأخذ منها، وهي دون ذلك كما يفعل بعض المغاربة والمخنثة من الرجال فلم يبحه أحد كذا في فتح القدير اھ(فصل في عوارض الفطر في رمضان، ج: ٢، ص: ٣٠٢، ط: دار الكتب الاسلامى)
وفي القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة: هذه القاعدة قيد لقاعدة (الضرورات تبيح المحظورات) للتنبيه علي ان ما تدعوا اليه الضرورة من المحظور انما يرخص منه القدر الذي تندفع نه الضرورة فحسب،فاذا اضطرالانسان لمحظور فليس له ان يتوسع في المحظور،بل يقتصر منه علي قدر ما تندفع به الضرورة فقط. فالاضطرار انما يبيح المحظورات بمقدار ما يدفع الحظر، ولايجوز الاسترسال،ومتى زال الحظر عاد الحظر اھ (الضرورات تقدر بقدرها، ج: ١، ص: ٢٨١، ط: أفاق مصريه )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93975کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات