اسلام ہم جنس پرستی کے بارے میں کیا کہتا ہے، خصوصاً اُن ہم جنس پرست (گے) لوگوں کے بارے میں جو کسی مرد سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟اور کیا پاکستان میں کھلے عام ہم جنس پرستی کی اجازت ہے؟اور اسلام میں ہم جنس پرستی کی کیا سزا ہے؟براہِ کرم اس بارے میں مجھے ایک مختصر فتویٰ دیں۔
اسلام نے ہم جنس پرستی (مرد کا مرد سے یا عورت کا عورت سے جنسی تعلق) کو صریحاً حرام اور کبیرہ گناہ قراردیاہے۔ یہ عمل اسلام کے بنیادی اخلاقی، معاشرتی اور فطری اصولوں کے سراسر منافی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں قومِ لوط کا واقعہ تفصیل سے بیان فرمایا، جو کہ اسی بدفعلی میں مبتلا تھی، اس قوم پراس جرم کی پاداش میں شدید عذاب بھی نازل فرمایا، اور قرآن میں کئی جگہ اس کا ذکر کیا، تاکہ امت محمدیہ سمیت دیگراقوام اس سے عبرت حاصل کریں۔
قرآن کریم میں ارشادباری تعالی ہے: ﴿أَتَأۡتُونَ ٱلذُّكۡرَانَ مِنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٦٥ وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٌ عَادُونَ ١٦٦﴾ [الشعراء: 165-166]
ترجمہ: کیا دنیا جہان کے سارے لوگوں میں تم ہو جو مردوں کے پاس جاتے ہو ( ۱۶۵) اور تمہاری بیویاں جو تمہارے رب نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں، اُن کو چھوڑے بیٹھے ہو؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تم حد سے بالکل گزرے ہوئے لوگ ہو ۔ (۱66) (آسان ترجمہ قرآن، مفتی تقی عثمانی)
ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨٠ إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةٗ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ ٨١﴾ [الأعراف: 80-81]
ترجمہ :اور ہم نے لوط کو بھیجا، جب اُس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم اُس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو ” تم سے پہلے دنیا جہان کے کسی شخص نے نہیں کی؟ (۸۰) تم جنسی ہوس پوری کرنے کے لئے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو۔ (اور یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ، بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ شرافت کی تمام حدیں پھلانگ چکے ہو۔ (81) (آسان ترجمہ قرآن، مفتی تقی عثمانی)
احادیث طیبہ میں بھی اس فعل شنیع پرسخت وعیدیں واردہوئی ہیں۔
نبی کریم ﷺ کاارشادمبارک ہے: عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به۔ وفي الباب عن جابر، وأبي هريرة. وإنما يعرف هذا الحديث عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم من هذا الوجه. (سنن الترمذى : باب ما جاء في حد اللوطي، ج: 3، ص: 124، الرقم: 1456، ط: دار الغرب الإسلامي – بيروت ) ترجمہ: "جس کو تم قومِ لوط والا عمل کرتے پاؤ، فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔"
البتہ ،یہ سزا اسلامی ریاست کے دائرے میں عدالت کے فیصلے سے نافذ ہوتی ہے، عام افراد کے لیے اس کا نفاذ جائز نہیں۔
جبکہ تمام فقہاء کرام ؒ ہم جنس پرستی جيسے فعل قبیح کے ثابت ہونےپرمجرم کوسخت ترین سزادینے پرمتفق ہیں ،البتہ ،بعض فقہاءاس سزاکوبطورحداوربعض حضرات تعزیری سزاکے طورپرنافذکرنے کے قائل ہیں ۔
جبكہ طبى وعقلى طورپر ہم جنس پرستی کی دنیاوی تباہ کاریوں اورمعاشرتی مفاسد پر أطباء اور اہل دانش كا اتفاق ہے، جن میں سرفہرست نفسیاتی بیماریاں، احساسِ گناہ، ڈپریشن، ایڈز اور دیگرکئی مہلک امراض شامل ہىں، لہذا پاكستان جيسے اسلامى ملك مىں مغربى اىجنڈے كى بنياد پر اس عمل قبيح كى راه ہموار كرنا يا اس حوالے سے قانونى رد وبدل كى كوشش شرعى اعتبار سے انتہائى سنگىن جرم ہے، چنانچہ پاكستانى معاشره كے تمام طبقات كو متفقہ طور پر اس كے سد باب كىلئے كوشش كرنا اور آواز اٹھانا لازم اور ضرورى ہے۔
كما في سنن الترمذي: عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به.اهـ (كتاب الحدود، باب ماجاء في حد اللوطي، ج: 5، ص: 57، الرقم: 1456 ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)
وفي النتف في الفتاوى: واما اللواط بالرجال فانه ليس في التحريم كالجماع ولا يحرم شيئا وحده كحد الزنا في قول النخعي وابي يوسف ومحمد وابي عبد الله وفي قول ابي حنيفة ليس فيه حد وفيه التعزير وفي قول الشعبي فيه الرجم ويجب عليهما الغسل جميعا انزل او لم ينزل.اهـ (كتاب النكاح، حكم اللواطة بالرجال، ج: 1، ص: 269، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)، (دار الفرقان - عمان)
وفي المبسوط للسرخسي: وكذلك اللواط عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يوجب التعزير عليهما، وعندهما يحدان حد الزنا يرجمان إن كانا محصنين ويجلدان إن كانا غير محصنين (إلى قوله) وأبو حنيفة - رحمه الله تعالى - يقول: هذا الفعل ليس بزنا لغة، ألا ترى أنه ينفى عنه هذا الاسم بإثبات غيره؟ فيقال: لاط وما زنى، وكذلك أهل اللغة فصلوا بينهما (إلى قوله) ثم اختلف الصحابة رضي الله عنهم في هذه المسألة فالمروي عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه أنهما يحرقان بالنار وبه أمر في السبعة الذين وجدوا على اللواطة، وكان علي رضي الله عنه يقول: يجلدان إن كانا غير محصنين ويرجمان إن كانا محصنين، وكان ابن عباس رضي الله عنهما يقول: يعلى أعلى الأماكن من القرية ثم يلقى منكوسا فيتبع بالحجارة وهو قوله تعالى {فجعلنا عاليها سافلها وأمطرنا عليهم حجارة} [الحجر: 74] الآية، وكان ابن الزبير رضي الله عنه يقول يحبسان في أنتن المواضع حتى يموتا نتنا (كتاب الحدود، ج: 9، ص: 77-79، ط: مطبعة السعادة - مصر)
وفي الدر المختار: لكن في الفتح ما يجب حقا للعبد لا يقيمه إلا الإمام لتوقفه على الدعوى إلا أن يحكما فيه فليحفظ.اهـ (باب التعزير، ج: 4، ص: 65، ط: إيج إيم سعيد)