کیا کوئی سرکاری ملازم اپنی ضلع سطح کے افسران کی زبانی یا تحریری اجازت سے اپنے سے زیادہ باصلاحیت کسی دوسرے شخص کو اپنے برابر یا اپنے سے کم تنخواہ پر اپنی جگہ پر ڈیوٹی کیلئے رکھ سکتا ہے؟تاکہ وہ آزادی سے کوئی دوسرا کاروبار وغیرہ کرسکے؟
واضح ہو کہ کسی محکمے كا تنخواہ دار ملازم عموماً اس محکمے کا اجیر خاص ہوتا ہے ،اور اجیر خاص کے ذمے اپنی ڈیوٹی خود انجام دینا لازم ہے ،محکمے کے صاحب اختیار لوگوں کی اجازت کے بغیر کسی اور كو اپنا كام حوالہ کرنا اور اس کیلئے اپنی تنخواہ کا تقرر کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،اور ہماری معلومات کی حد تک سرکار کی جانب سے کسی افسر کو عموماً یہ اجازت نہیں ہوتی ،کہ وہ اپنے ماتحتوں کو محکمہ کے کام کے أوقات میں اپنی جگہ کسی فرد کو لگا کر خود ذاتی کاروبار کرنے کی اجازت دے،لہذا صورت مسؤلہ میں مذکور سرکاری ملازم کا باقاعدہ سرکاری اپروول کے بغیر اپنی جگہ کسی اور کو سیٹ کرنا شرعاً جائز نہیں،اس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الدرالمختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل،اھ(مبحث الأجير الخاص، كتاب الاجارة،ج: 6،ص: 69،مط: دار الفکر)
و فیہ ایضاً: وإذا شرط عمله بنفسه بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك(لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره.خلاصة (وإن أطلق كان له) أي للاجير أن يستأجر غيره،اھ(كتاب الاجارة،ج: 6،ص: 572،مط: دار الفکر)
و فی رد المحتار: (تحت قوله: لايستعمل غيره) ولو غلامه أو أجيره قهستاني؛ لأن عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه كما إذا كان المعقود عليه المنفعة، بأن استأجر رجلا شهرا للخدمة لا يقوم غيره مقامه؛ لأنه استيفاء للمنفعة بلا عقد زيلعي،اھ(كتاب الإجارة،شروط الإجارة،ج: 6،ص: 18،مط: دار الفکر)
و فی دررالحکام: الأجير الذي استؤجر على أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره مثلا لو أعطى أحد جبة لخياط على أن يخيطها بنفسه بكذا دراهم، فليس للخياط أن يخيطها بغيره وإن خاطها بغيره وتلفت فهو ضامن،اھ(الكتاب الأول البيوع، الباب السادس في بيان أنواع المأجور وأحكامه، الفصل الرابع في بيان إجارة الآدمي ،ج: 1،ص: 657،مط: دار الجیل)