کیا ماموں کا بھانجی کیساتھ گناہ ہو جانے سے نسلیں آپس میں حرام ہوجاتی ہے ،کیا (0cd) کی بیماری میں گناہ ہوجانے سے شریعت اور حرام کا مسئلہ ہوجاتا ہے جب کہ پہلے ایسا نہ ہو ؟
واضح ہو کہ ماموں بھانجی کے محرمات نسبیہ میں سے ہے اور یہ رشتہ باہم انتہائی احترام کا رشتہ ہے،لہذا ماموں کا بھانجی سے ناجائز تعلق قائم کرنا یا بدکاری کا مرتکب ہونا ایک سخت ترین گناہ اور انتہائی درجہ قبیح فعل ہے، تاہم اس فعل کی وجہ سے ان کی أولاد کا آپس میں ایک دوسرے سے نکاح حرام نہیں ہوتا، جبکہ (ocd :Obsessive-compulsive disorde) کی بیماری جس میں انسان کو غیر اختیاری طور پر بار بار برے خیالات اور وساوس آتے ہیں تو محض ان خیالات و وساوس آنے پر اگرچہ کوئی مواخذہ اور گناہ نہیں لیکن اگر کوئی شخص ان خیالات کو عملی جامہ پہنا کر کسی غیر شرعی فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے عمل بد کے بقدر وہ اس کی سزا کا بھی مستحق قرار پائے گا۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله تعالى تجاوز عن أمتي ما وسوست به صدورها ما لم تعمل به أو تتكلم،(ج: 1،ص:26،رقم الحدیث: 63،مط: المکتب الاسلامی)
و فی الھندیۃ: (الباب الثالث في بيان المحرمات) وهي تسعة أقسام (القسم الأول المحرمات بالنسب) . وهن الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات وبنات الأخ وبنات الأخت فهن محرمات نكاحا ووطئا ودواعيه على التأبيد،اھ(كتاب النكاح،القسم الأول المحرمات بالنسب،ج: 1،ص: 273،مط: دارالفکر)
و فی ردالمحتار: (تحت قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.(كتاب النكاح،ج: 3،ص: 32،مط: دارالفکر)
و فی البحر الرائق: ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها اھ(كتاب النكاح،فصل في المحرمات في النكاح،ج: 3،ص: 108،مط: دارالکتاب الاسلامی)