گناہ و ناجائز

سوشل میڈیا پر نامحرم کی پوسٹ لگانے اور اس کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
93228
| تاریخ :
2026-03-14
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سوشل میڈیا پر نامحرم کی پوسٹ لگانے اور اس کی آمدن کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ۔محترم میرا سوال گرافک ڈیزائینگ سے متعلق ہے کہ ہم سوشل میڈیا پوسٹ ڈیزائن کرتے ہیں جنمیں بے پردہ عورتوں کی تصاویربھی ہوتی ہیں کلائنٹ کی طرف سے وہ تصاویر لگانےکہا جاتا ہے تو کیا اس طرح کی پوسٹ ڈیزائن کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن جائز ہوگی ؟ والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بے پردہ عورتوں کی گرافک ڈیزائن والی تصاویر پر مشتمل پوسٹیں بناکر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا شرعاً ناجائز وحرام اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال نہیں،جس سے احتراز لازم ہے،لہذا سائل کو اس حرام کاروبار کو ترک کرکے جائز ذریعہ معاش اختیار کرنا چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: «(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي)(کتاب الاجارۃ،مطلب فی الاستئجار علی الطاعات،ج:6،ص:55،ط:سعید)
و فی المبسوط للسرخسی: وبيان هذا أن المرأة من قرنها إلى قدمها عورة هو القياس الظاهر وإليه أشار رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: «المرأة عورة مستورة» ثم أبيح النظر إلى بعض المواضع منها للحاجة والضرورة فكان ذلك استحسانا لكونه أرفق بالناس كما قلنا... فأما النظر إلى الأجنبيات فنقول: يباح النظر إلى موضع الزينة الظاهرة منهن دون الباطنة لقوله تعالى {ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها} [النور: 31] وقال علي وابن عباس - رضي الله عنهم -: ما ظهر منها الكحل والخاتم.(اول کتاب الاستحسان،ج:10،ص:145، دارالمعرفۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93228کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات