گناہ و ناجائز

بس یا گاڑی پر کلمہ طیبہ وغیرہ لکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
93052
| تاریخ :
2026-03-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بس یا گاڑی پر کلمہ طیبہ وغیرہ لکھنے کا حکم

کیا بس یا گاڑی پر کلمہ طیبہ لکھنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرآن کی آیات ،اللہ تعالی کے اسماء ،اور مقدس کلمات کو کسی جگہ لکھنے اور لٹکانے میں عام طور پر اصول یہ ہے کہ ان کو ایسی جگہوں پر لکھنے سے بچنا چاہیئے جہاں ان پاک کلمات کی بے ادبی کا اندیشہ ہو،لہذا بس یا گاڑی پر کلمہ طیبہ وغیرہ لکھنے میں اگر ان پاک کلمات کی بے ادبی کا اندیشہ ہوتو بس یا گاڑی پر کلمہ طیبہ لکھنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: أنه ‌تكره ‌كتابة ‌القرآن وأسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة۔الخ(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب صلاة الجنازة، مطلب فيما یکتب علی کفن المیت،ج:2، ص:246،ط:سعيد)
وفی الھندیہ: ولو كتب القرآن ‌على ‌الحيطان والجدران بعضهم قالوا: يرجى أن يجوز، وبعضهم كرهوا ذلك مخافة السقوط تحت أقدام الناس، كذا في فتاوى قاضي خان.(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، ج:5،ص:323، ط:ماجدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93052کی تصدیق کریں
0     123
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات