گناہ و ناجائز

انسانی بال فروخت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
92487
| تاریخ :
2026-02-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

انسانی بال فروخت کرنے کا حکم

کیا کنگھی سے ٹوٹے بال بیچنا جائز ہے، خواتین کے بال؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

انسانی بالوں کو بیچنا یا کسی دوسرے استعمال میں لانا، چاہے مرد کے ہوں یا عورت کے، حرمتِ انسانی کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ،اس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدرالمختار:وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی:(كما بطل بيع صبي لايعقل و مجنون)(الى قوله) (وشعر الإنسان) لكرامة الآدمي ولو كافرا ذكره المصنف وغيره في بحث شعر الخنزير اھ
وفي رد المحتار:وقال تحتہ العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی:قوله: ( وشعر الإنسان): ولا يجوز الانتفاع به لحديث اھ(لعن الله الواصلة والمستوصلة)(‌‌باب البيع الفاسد،ج:٥،ص:٥٨،ط:سعيد)
وفي فتح القدير:(قوله ‌ولا ‌يجوز ‌بيع ‌شعر ‌الإنسان) مع قولنا بطهارته (والانتفاع به؛ لأن الآدمي مكرم غير مبتذل فلا يجوزأن يكون شيء من أجزائه مهانا ومبتذلا) وفي بيعه إهانة، وكذا في امتهانه بالانتفاع اھ(باب البيع الفاسد،ج:٦،ص:٦٢،ط:رشيدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92487کی تصدیق کریں
0     131
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات