عدالتی خلع لینے کے ایک حیض کے بعد عورت دوسرا نکاح کر لے کسی کے ساتھ ، کیا نکاح ہوگیا ہے یا نہیں ؟
واضح ہوکہ خلع کی عدت وہی ہے جو طلاق کی عدت ہے؛ یعنی اگر عورت کو حیض آتا ہو تو تین حیض گزارنا لازم ہے، اور اگر سنِ ایاس کو پہنچ چکی ہو تو تین ماہ عدت ہوگی، اور اگر حاملہ ہو تو وضعِ حمل تک عدت ہوگی۔لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر عدالتی خلع کو شوہر نے تسلیم کرلیا تھا تو خلع شرعاً واقع ہوچکاہے، چنانچہ اس کے بعد اگر عورت نے صرف ایک حیض کے بعد نکاح کرلیا ہواور شوہر کو عدت کا علم نہ ہو تو یہ نکاح عدت کے اندر ہونے کی وجہ سے درست منعقد نہیں ہوا ، چنانچہ دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ دوسرے شوہر پر لازم ہے کہ الفاظ متارکت مثلاً "میں نے تمہیں چھوڑ دیا وغیرہ کہہ کر عورت کو آزاد کردے ، تاکہ عدت کےبعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنےمیں آزاد ہو، البتہ عدت کے بعد دوبارہ ساتھ رہنا چاہویں تو نئے سرے سے شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ ایجاب وقبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں ۔
کما فی الھدایۃ:وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء(الیٰ قولہ )وإن كانت حاملا فعدتها أن تضع حملها (باب العدۃ، ج:2،ص:275،ناشر:بیروت)
وفی فتح القدیر:(قوله إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا) وليس رجعيا في بعض النسخ وشمل طلاق الخلع الخ(باب العدۃ،ج:4، ص:307، ناشر :دارالفکر)
وفي الهداية: واذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله ان يتزوجها في العدة وبعد انقضائها الخ (كتاب الطلاق باب الرجعة فصل فيما تحل به المطلقة ج 2 ص 92 ط مكتبة انعامية)