کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ !
میں نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو مذکور الفاظ" میں محمد کریم اپنے ہوش و حواس میں مہرین کو طلاق دیتا ہوں " تین مرتبہ یہ جملہ بولا ہے، اور دو ماہواری گزرنے کے بعد تیسری ماہواری آنے سے قبل ہم نے دوبارہ ہمبستری کر لی ہے اور اس کو اس سے حمل ٹھہر گیا ہے ،لہذا اب میں دوبارہ اسی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، قرآن و سنت کی روشنی میں واضح جواب دیں۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ شوہر کے بار بار تشدد کی وجہ سے میری ہمشیرہ اپنے میکے میں بیٹھی ہوئی ہے، اب آیا عدالت میں کیس کر کے ہم خلع لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس کے دو بچے ہیں، نہ ہی طلاق دے رہا ہے اور نہ ہی خرچہ ادا کر رہا ہے، کیا عدالت میں کیس کر کے ہم خلع لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور ایسی صورت میں نکاح ختم ہو جائے گا یا نہیں ؟ محمد کریم حبیب چورنگی
(1) سائل کا اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں تین مرتبہ مذکور الفاظ ''میں محمد کریم اپنے ہوش و حواس میں مہرین کو طلاق دیتا ہوں'' کہہ دینے سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو کر ان دونوں کا نکاح ختم ہو چکا تھا، چنانچہ اس کے بعد ان کا بغیر حلالۂ شرعیہ باہم میاں بیوی کی طرح رہنا قطعاً نا جائز اور حرام تھا ، جس کی وجہ سے دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں ،لہذا سائل اور اسکی بیوی پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں ، اور طلاق کے بعد ایک ساتھ رہنے کی بناء پر جو گناہ سرزد ہوا ہے، اس پر بصدق ِدل تو بہ واستغفار کریں، نیز سائلہ کی بیوی اگرچہ حاملہ ہے، مگر اس کے باوجود سائل کا بغیر حلالہ شرعیہ کے اپنی مذکور سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرنا شرعا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔بلکہ اس کیلئے حلالہ شرعیہ ضروری ہے اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپناعقد نکاح کرے ،چنانچہ اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے۔بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوج ثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگاتاکہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرےیہ مکروہ تحریمی ہے،اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
(2) اگر سوال میں ذکر کردہ وضاحت واقعتہ ًدرست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعتہً سائل کی ہمشیرہ کا شوہر اس پر تشدد کرتا ہو یا نان نفقہ کی ادا ئیگی سے انکار ی ہو، اور طلاق یا خلع پر بھی آمادہ نہ ہو تو ایسے شوہر سے خلاصی کیلئے بیوی کو عدالت سے فسخ نکاح فسخ کروانے کا اختیار ہے ، جس کا طریقہ کار یہ ہیکہ سائل کی ہمشیرہ کی طرف سے عدالت میں "فسخ نکاح " کی درخواست جمع کرائی جائے ، اور قاضی (جج) اس متعلق تحقیق و تفتیش اور ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد دعوی ثابت ہونے پر اگر فسخ نکاح کی ڈگری جاری کردے ،تو یہ ڈگری شرعاً بھی معتبر ہو گی ، اور اس ڈگری سے طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہوجائیگا ۔اور عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی التنزیل العزیز :فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فإن طلقها فلا جناح عليهما أن يتراجعا إن ظنا أن يقيما حدود الله وتلك حدود الله يبينها لقوم يعلمون (230)
و فی صحیح البخاری :أن عائشة، أخبرته: أن امرأة رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إن رفاعة طلقني فبت طلاقي، وإني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي، وإنما معه مثل الهدبة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته(11)
قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ (سورۃالبقرۃ،آیت 228)
وفی الحیلۃ الناجزۃ: وأما المتعنت الممتنع عن الاتفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرۃ انفق أو طلق، وإلا طلق علیہ، قال محشیہ: أی طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم الخ ( ص 73 )
وفی الھدایۃ: وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به(باب الخلع ج 2 ص96 ط: انعامیہ)
وفی الحیلۃ الناجزۃ: ان المتعنت اذارجع عن التعنت بعد العدۃ فالمرأۃ لاترجع الیہ بحال کما ھو مذکور فی ھذاالمقام الغائب المطلق علیہ اذا قدم بعد العدۃ واثبت خلاف ما ادعتہ فالمرأۃ لہ وان عاند بعد ما ارسل الیہ الحاکم(ص73 ط : دارالاشاعت)