اگر شوہر عدالت میں نہ آئے اور دستخط نہ کرے تو کیا خلع ہو جاتی ہے؟ اسلامی نقطۂ نظر سے وضاحت کریں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بد ستور برقرار رہتا ہے۔ لہذا بىوى كا عدالت مىں خلع کا دعوی دائر کرنے كے بعد اگر عدالت اس کے شوہر ىا اس كے وكىل کی اجازت و رضا مندی کے بغیر عورت کے حق میں یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردے ، اور اس خلع کے اجراء کے وقت فسخ نکاح کے اسباب میں سے کوئی سبب بھی موجود نہ ہو تو اس کی وجہ سے شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہ ہوگا ، بلکہ بد ستور برقرار رہے گا ، چنانچہ اس طرح کے خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر عورت کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد بھی نہ ہوگی ۔
کما فی شرح مختصر الطحاوي للجصاص: [ليس للحكمين في الشقاق التفريق إلا بالتفويض] قال: (وليس للحكمين في الشقاق أن يفرقا إلا أن يجعل ذلك إليهما الزوجان) قال أحمد: وروي عن علي رضي الله عنه مثل ذلك اهـ (باب مسألة الخلع، ج :4، ص: 456 ط: دار البشائر الإسلامية)
وفی فتح القدير: ولو ادعى النشوز وادعت هي ظلمه وتقصيره في حقها يفعل الحاكم ما يتفقان عليه من الجمع والتفريق، وليس لهما أن يجمعا ولا أن يفرقا بغير أمرهما اهـ ( باب الخلع،ج :4، ص :244، ط : دار الفكر)
وفی المبسوط: والخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق بعوض اهـ (باب الخلع،ج:6 ص: 173 ، ط: دار المعرفة)
وفي موسوعة الفقه على المذاهب الأربعة: اتفق فقهاء المسلمين على أن الزوجين إذا وصلا إلى حالة من الشقاق و السباب و النفور و اشتد الخلاف بينهما و أشكل أمرهما و خيف من تعديهما إلى ما حرم الله أنه يبعث حكمان حكم من أهله و حكم من أهلها إن و جدا، فينظران بينهما و يفعلان ما يريان المصلحة فيه لهما من جميع أو تفريق لقوله تعالى: ﴿و إن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله و حكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما) [النساء: (٣٥) اهـ (التحكيم عند الشقاق بين الزوجين، ج:16، ص:436، ط: دار التقوى).