گناہ و ناجائز

مالک مکان کا ایک سال کا معاہدہ کرنے کے بعد درمیان سال گھر خالی کروانا

فتوی نمبر :
92212
| تاریخ :
2026-02-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مالک مکان کا ایک سال کا معاہدہ کرنے کے بعد درمیان سال گھر خالی کروانا

ایک صاحب نے اپنا گھر کرایہ پر دیا۔ انہوں نے کرایہ داری کا ایک سال کا معاہدہ کیا۔ ایک سال بعد دوبارہ اس معاہدہ کی تجدید کی گئی، لیکن تین ماہ بعد علاقے میں کرایہ کافی بڑھ گیا۔ سال بعد دس فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔ لیکن اب مارکیٹ میں ان گھروں کا کرایہ 30 فیصد بڑھ گیا۔ مالک مکان نے کرایہ دار کو گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔ ایک سال کے نئے معاہدہ ہونے کے بعد۔ اب کرایہ دار کا مؤقف یہ ہے کہ میں اپنی آسانی کے لیے کئی قسم کے اخراجات کر لیے ۔ نیز مجھے پھر سے ڈیلر کمیشن دینی ہوگی۔ نیز گھر منتقل کرنے پرکئی قسم کے اخراجات آئیں گے۔ آپکو اس سال کو ختم ہونے سے پہلے مکان مجھ سے خالی نہیں کرانا چاہئے ہے۔ اور اگر بالفرض آپ نے ضرور خالی کرانا ہے تو آپ مجھے شفٹنگ کی لاگت اور ڈیلر کی کمیشن وغیرہ ادا کرنی چاہئے ہے۔ آیا یہ مطالبہ درست ہے ؟ یا مالک جب چاہے مکان خالی کروا سکتا ہے اور تمام نقصان کرایہ دار کے سر ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسؤلہ میں جب مالکِ مکان اور کرایہ دار کے درمیان سابقہ مدتِ کرایہ مکمل ہونے کے بعد 10٪ اضافے کے ساتھ مزید ایک سال کے لیے مکان کرایہ پر دینے کا باہمی معاہدہ طے پا چکا ہو تو اس مدتِ معینہ کے دوران بغیر شدید عذر کے مالکِ مکان کا کرایہ میں مزید اضافہ جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس سے قبل گھر خالی کرانا جائز ہے، جبکہ فقط پڑوس کے مکانات کے کرایہ میں مزید اضافہ ہونا کوئی ایسا شرعی عذر نہیں، جس بنا پر مالک کو یک طرفہ اجارہ کے فسخ کا اختیار حاصل ہو، اس لیے مالکِ مکان کو سابقہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے، ایک سال کی مدت تک گھر خالی کرانے سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کرایہ دار مالکِ مکان کے مطالبہ پر گھر خالی کرنے پر آمادگی ظاہر کر لیتا ہے تو ایسی صورت میں اس کے لیے مالکِ مکان سے سیکیورٹی رقم کے علاوہ دیگرممکنہ اخراجات (بروکر کی کمیشن، شفٹنگ کے اخراجات) کی مد میں اضافی رقم کا مطالبہ جائز نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ (سورة المائدة: ١)
وفي احكام القران للجصاص: وقال أبو عبيدة في قوله أوفوا بالعقود قال هي العهود والأيمان وروي عن جابر في قوله أوفوا بالعقود قال هي عقدة النكاح والبيع والحلف والعهد وزاد زيد ابن أسلم من قبله وعقد الشركة وعقد اليمين وروى وكيع عن موسى بن عبيدة عن أخيه عبد الله بن عبيدة قال العقود ستة عقد الإيمان وعقد النكاح وعقدة العهد وعقدة الشرى والبيع وعقدة الحلف قال أبو بكر العقد ما يعقده العاقد على أمر يفعله هو أو يعقد على غيره فعله على وجه إلزامه إياه الخ(سورة المائدة: ١، ج: ٣، ص: ٢٨٥، ط: التراث)
‌وفي بدائع الصنائع: وأما ‌صفة ‌الإجارة ‌فالإجارة ‌عقد ‌لازم ‌إذا ‌وقعت ‌صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والرؤية عند عامة العلماء، فلا تفسخ من غير عذر،(الى قوله) ولنا أنها تمليك المنفعة بعوض فأشبهت البيع وقال سبحانه وتعالى {أوفوا بالعقود} [المائدة: 1] والفسخ ليس من الإيفاء بالعقد وقال عمر: رضي الله عنه " البيع صفقة أو خيار " جعل البيع نوعين: نوعا لا خيار فيه، ونوعا فيه خيار، والإجارة بيع فيجب أن تكون نوعين، نوعا ليس فيه خيار الفسخ، ونوعا فيه خيار الفسخ؛ ولأنها معاوضة عقدت مطلقة فلا ينفرد أحد العاقدين فيها بالفسخ إلا عند العجز عن المضي في موجب العقد من غير تحمل ضرر كالبيع اھ(فصل في صفة الإجارة، ج: ٤، ص: ٢٠١، ط: سعيد)
وفي الدرالمختار: تفسخ بالقضاء أو الرضا (بخيار شرط ورؤية)الخ (باب فسخ الاجارة، ج: ٦، ص: ٧٦، ط: سعيد)
وفي البحرالرائق: وصفتها أنها عقد لازم وفي العناية ويثبت في الإجارة خيار الشرط والرؤية والعيب كما في البيع اهـ (كتاب الاجارة، ج: ٨، ص: ٣، ط: ماجدية)
وفيه ايضاََ: (وتفسخ بالعيب) أي تفسخ الإجارة بالعيب وظاهر قوله تفسخ أفاد أنها لا تتوقف على رضا الآخر ولا على القضاء وفي التتارخانية، وإذا تحقق العذر هل ينفسخ بنفسه أو يحتاج إلى الفسخ إشارات الكتب متعارضة ففي بعضها ينفسخ بنفس العذر وبه أخذ بعض المشايخ وفي عامتها يحتاج إلى الفسخ وعليه عامة المشايخ وهو الصحيح، وقيل العقد ينفسخ بدون الرضا قيل هو الصحيح وبعض المشايخ قال إن كان العذر يمنع المضي ينفسخ بنفسه ولا يحتاج إلى القضاء وإن كان لا يمنع المضي يحتاج إلى القضاء اهـ.وفي الزيادات يرفع الأمر إلى القاضي ليفسخ الإجارة قال شمس الأئمة رواية الزيادات أصح كذا في الخلاصة، وفي الجامع الصغير يشترط لصحة الفسخ الرضا أو القضاء اهـ (كتاب الاجارة، ج: ٨، ص: ٣٥، ط: ماجدية)
وفي الاشباه والنظائر لان نجيم: لا يجوز التصرف في مال غيره بغير إذنه الخ(كتاب الغصب، ص: ٢٤٣، ط: دار الكتب العلمية)
وفي الهندية: الإجارة تنقض بالأعذار عندنا وذلك على وجوه إما أن يكون من قبل أحد العاقدين أو من قبل المعقود عليه وإذا تحقق العذر ذكر في بعض الروايات أن الإجارة لا تنقض وفي بعضها تنقض، ومشايخنا وفقوا فقالوا: إن كانت الإجارة لغرض ولم يبق ذلك الغرض أو كان عذر يمنعه من الجري على موجب العقد شرعا تنتقض الإجارة من غير نقض(الى قوله)وإذا تحقق العذر ومست الحاجة إلى النقض هل يتفرد صاحب العذر بالنقض أو يحتاج إلى القضاء أو الرضاء اختلفت الروايات فيه والصحيح أن العذر إذا كان ظاهرا يتفرد، وإن كان مشتبها لا يتفرد. كذا في فتاوى قاضي خان اھ(الباب التاسع عشر في فسخ الإجارة بالعذر، ج: ٤، ص: ٤٥٨، ط: ماجديه)
وفیھا ایضا: استأجر حانوتا ليتجر في السوق ثم كسد السوق حتى لا يمكنه التجارة فله فسخ الإجارة لأنه عذركذا في القنية اھ(الباب التاسع عشر في فسخ الإجارة بالعذر، ج: ٤، ص: ٤٥٨، ط: ماجديه)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92212کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات