گناہ و ناجائز

"ناد علی "کا وظیفہ پڑھنے کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
9217
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

"ناد علی "کا وظیفہ پڑھنے کا شرعی حکم

میرا نام فاریہ ہے، اور یہ میرا دوسرا ای میل ہے، میرے سوالات کا جواب واضح نہیں ہوا۔ میں ’’ناد علی‘‘ کا کڑا ّاسٹیل کی چوڑی) جو پہنتی ہوں وہ آج تک واش روم میں لے کر نہیں گئی ، ہمیشہ احتیاط کی کہ اس کی بے ادبی نہ ہو۔ میرے سوال یہ میں (1) ناد علی کی حقیقت کیا ہے؟ (۲) نادِ علی کے الفاظ شرکیہ ہیں ؟ (۳) کیانادِ علی پڑھنا نا جائز ہے ؟ (۴) ناد علی پڑھنا ہمیں سنی دیوبند کے دائرے سے خارج کر کے اہل تشیع میں شمار کر دیتا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

’’نادِ علی‘‘ کے الفاظ شرکیہ یا کم از کم مہم شرک ضرور ہیں،اس کے پڑھنے سے اگر چہ آدمی شیعہ نہیں ہوتا، مگر اس کا کڑا پہننا یا اس کا وظیفہ پڑھنا غلط اور خلاف شرع ہے ۔ اس کو ہرگز نہ پڑھا جائے۔ اور ناد علی کے الفاظ یہ ہیں :

مأخَذُ الفَتوی

ناد عليا مظهر العجائب .... وتجده عونا لك في النوائب
كل ثم وهم سغیجلى بنبوت .. يا محمد بولايتك يا علي يا علي ياعلى

واللہ تعالی اعلم بالصواب
آصف ابراھيم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 9217کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات