ہمبستری کر نے کے بعد پتا چلا کہ حیض آگیا ، ہم میاں بیوی کو ہم بستری کے دوران بالکل پتا نہیں تھا کہ ایام شروع ہو گئے، بعد میں جب شوہر استنجا کرنے گئے اور کونڈم اتارا تو اس میں بلڈ لگا ہوا تھا ، اب ہم میاں بیوی پریشان ہیں ہمیں کیا کرنا چاہیئے ؟ کیوں کہ بالکل لا علمی میں یہ سب ہوا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی ہم بستری کے وقت میاں بیوی دونوں کو اس بات کا علم نہ تھا کہ حیض شروع ہو چکا ہے، اور بعد میں جماع کے بعد خون ظاہر ہوا جس سے معلوم ہوا کہ ایام آ چکے تھے، تو ایسی صورت میں شرعاً گناہ لازم نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ فعل لاعلمی اور غیر ارادی طور پر واقع ہوا ہے، اور شریعت میں خطا و نسیان پر مؤاخذہ نہیں۔تاہم میاں بیوی دونوں کو چاہیئے کہ نادانستگی میں ہونے والی اس خطاء پربھی بصدقِ دل توبہ واستغفار کریں ، اس صورت میں سائلہ اوراس کے شوہر پر کوئی کفارہ واجب نہیں ۔تاہم حسب ِاستطاعت کچھ رقم صدقہ کردینامستحب ہے ۔
کمافی الدر المختار: ثم هو كبيرة لو عامدا مختارا عالما بالحرمة لا جاهلا أو مكرها أو ناسيا فتلزمه التوبة؛ويندب تصدقه بدينار أو نصفه ومصرفه كزكاة وهل على المرأة تصدق؟ قال في الضياء: الظاهر لا الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: لا جاهلا إلخ) هو على سبيل اللف والنشر المشوش، والظاهر أن الجهل إنما ينفي كونه كبيرة لا أصل الحرمة إذ لا عذر بالجهل بالأحكام في دار الإسلام، أفاده ط؛ (قوله: ويندب إلخ) لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعا «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار» ثم قيل إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دما أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار» اهـ (قوله: قال في الضياء إلخ) أي الضياء المعنوي شرح مقدمة الغزنوي، وأصل البحث للحدادي في السراج، ويؤيده ظاهر الأحاديث، وظاهرها أيضا أنه لا فرق بين كونه جاهلا بحيضها أو لا الخ (کتاب الطھارۃ،باب الحیض،ج1،297-298، ط:ایچ ایم سعید)-