گناہ و ناجائز

ساس اور سسر کا بہو کو برا بھلا بولنے کا حکم

فتوی نمبر :
91805
| تاریخ :
2026-02-06
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ساس اور سسر کا بہو کو برا بھلا بولنے کا حکم

کیا شوہر کے والدین کی طرف سے اسکی بیوی اور بچوں کو بد دعائیں دینے اور مسلسل لوگوں کے سامنے ذلیل کرنے کا کوئی جواب دہ نہیں ہے؟سترہ سالوں سے شوہر خود بھی اور اسکے رشتے دار خاص کر اسکے والدین بہت زہنی جسمانی اذیت دیتے رہتے ہیں، اگر اب میں نے اپنے شوہر سےکہا کہ انھیں یہ سب کرنے سے منع کریں تو شوہر نے مجھے ہی برا کہا اور کہا کہ وہ تمہیں اور بچوں کوجو مرضی بد دعائیں دیں یا کچھ بھی کہتے رہیں، میں نہیں بولوں گا، کیونکہ وہ میرے والدین ہیں ،کیا وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ؟بیوی بچوں کو تکلیف میں رکھ کر ان کے لیے بولنا گناہ ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃً شوہر کے والدین بہو اور اس کے بچوں کو بددعائیں دیتے اور لوگوں کے سامنے ذلیل کرتے ہوں تو ان کامذکور طرزِ عمل شرعاً درست نہیں، کیونکہ کسی مسلمان کو ایذا دینا اور بدزبانی کرنا گناہ ہے۔
چنانچہ سائلہ کےشوہر پرحکمت اور ادب کے ساتھ اپنے والدین کو اس ظلم سے روکنالازم ہے، کیونکہ بروزمحشروہ جس طرح والدین کی اطاعت و فرمانبرداری سےمتعلق مسئول ہیں،بعینہ اسی طرح اپنی بیوی ، بچوں کے بارے میں بھی عند اللہ جواب دہ ہیں،اوروالدین کی اطاعت شرعاً صرف جائز امور میں لازم ہے، ظلم میں ان کی تائید یا خاموشی اختیار کرنا درست نہیں۔جس سے اجتناب چاہیے۔
تاہم اس ضمن میں والدین سے بدتمیزی یا قطع تعلق بھی جائز نہیں، بلکہ عدل و اعتدال کے ساتھ دونوں طرف کے حقوق ادا کرناضروری ہے۔اس لیےسائلہ کو بھی چاہیے کہ شوہر کو والدین کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے صبر، دعا اور حکمت کو اختیار کرے اور اصلاحی انداز اپنائے، تاکہ گھرمیں مزید فتنہ و نزاع پیداہونے سے بچاجاسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی التفسیر المظھری: وَلا تَجَسَّسُوا؛ الجس فى اللغة المس باليد والتجسس تفحص الاخبار باعتبار ما فيه من معنى الطلب كالتلمس والمراد هاهنا لا تبحثوا عن عيوب الناس ولا تتبعوا عوراتهم حتى لا يظهر عليكم ما ستره الله منها عن ابى هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إياكم والظن فان الظن أكذب الحديث ولا تجسسوا ولا تنافروا ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا ولا يخطب الرجل على خطبة أخيه حتى ينكح او ينزل رواه ملك واحمد وابن ماجة وابو داود والترمذی وصححه، وعن إبن عمرؓ أنّ النبی ﷺ قال: يا معشر من أمن بلسانه ولم يفض الايمان الى قلبه لا تغتابوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتهم فانه من تتبع عورات المسلمين يتبع الله عوراته فيفضحه ولو فى جوف رحله رواه الترمذی وحسّنه،( إلی قولہ ) عن ابى سعيد وجابر قالا قال رسول الله ﷺ الغيبة أشد من الزنا قالوا يا رسول الله وكيف الغيبة أشد من الزنا قال ان الرجل يزنى فيتوب الله فيغفر له وان صاحب الغيبة لا يغفر له حتى يغفر له صاحبه، الخ ( ج 9، ص 54-56، ط: مکتبۃ الرشیدیۃ )-
وفی سنن إبن ماجۃ: حدثنا عبد الله بن عمر، قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يطوف بالكعبة، ويقول: "ما أطيبك وأطيب ريحك، ما أعظمك وأعظم حرمتك ! والذی نفس محمد بيده، لحرمة المؤمن أعظم عند الله حرمة منك، ماله ودمه، وأن نظن به إلا خيرا"، اھ ( ‌‌أبواب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، المرقم: 3932، ص 781، ط: البشری )-
وفی الصحیح للبخاری: عن عبد الله بن عمرو رضی الله عنهما، عن النبیّ صلى الله عليه وسلم قال:"المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نھی الله عنه" الخ (كتاب الإيمان، باب: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده،ج1، ص 130،ط: البشری)-
وفی المرقاۃ: تحت قولہ (المسلم) أی الكامل، لما تقدم من معنى الإسلام، أو المسلم الحقيقی المتصف بمعناه اللغوی (من سلم المسلمون) أی و المسلمات، إمّا تغليبا وإمّا تبعا، و يلحق بهم أهل الذمّة حكما، (من لسانه) أی بالشتم، واللعن، والغيبة، والبهتان، والنميمة، والسعی إلى السلطان، وغير ذلك، (ويده) بالضرب، والقتل، والهدم، والدفع، والكتابة بالباطل، ونحوها،الخ (كتاب الإيمان، الفصل الاوّل، ج 1، ص 143، ط: المکتبۃ الحقانیۃ)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91805کی تصدیق کریں
0     146
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات