مجھے آپ سے معلوم کرنا تھا کہ 'FOREX TRADING' اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟براہ کرم تفصیل سے جواب دیجئے گا۔
بین الاقوامی سطح پر فاریکس ٹریڈنگ کے عنوان سے رائج کاروبار میں سونا، چاندی، کرنسی،کپاس، گندم، گیس، خام تیل،جانور اور دیگر بہت سی اشیاء کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔فاریکس ٹریڈنگ کے بارے میں اب تک حاصل شدہ معلومات کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے :
(۱)فاریکس کمپنی کے ذریعے ہونے والی مبیع (خریدی ہوئی شے) کا وجود قطعی اور یقینی نہیں ہے۔
(۲)’’آن لائن ‘‘خریدی گئی چیز کے مقام و مقدار کا تعین نہیں ہے۔
(۳) مبیع اور ثمن عاقدین ( بائع ومُشتری) کے قبضے میں نہیں ہوتے،بلکہ اکاؤنٹس میں فرضی طورپرہوتے ہیں۔
(۴) کرنسی کے تبادلے میں دونوں اطراف میں کسی بھی جانب سے قبضہ نہیں پایاجاتا،جوکہ ’’بیع الکالی بالکالی ‘‘ ہے جس سے منع کیا گیا۔
اگر اِس کاروبار ی سلسلے میں کسی ایسی شے کی خریدوفروخت کی جارہی ہو، جس کا حقیقی وجود پایا جاتا ہو ،تو یہاں بھی یہ خرابی پائی جاتی ہے کہ فاریکس ٹریڈنگ میں وہ شے اپنی جگہ سے ہلتی بھی نہیں اور بار بار فروخت ہورہی ہوتی ہے ،جو ’’بیع قبل القبض ‘‘کی صورت ہے،اس لیے ”آن لائن فاریکس ٹریڈنگ “ سے اجتناب لازم ہے۔
کمافی الفقہ البیوع: وقد شاع في عصرنا التجارۃ في العملات عن طريق "سوق العملات الخارجيۃ" والذي يخفف فيقال "فوريكس" وهذه سوق تتبادل فيها العملات بمقدار كبير يبلغ قيمتها ٣٨ تريليون يوما، ومعظمها لعمليات المجازفۃ والتخمين، وان هذه السوق لها طرق مختلفۃ للتجارۃ، وان معظمها تشمل على محظورات شرعيۃ نذكر بعضها فيما يلي؛
الاول: الاصل في العملات والنقود انها وسيلۃ لتقديم الاشياء وليست مقصودۃ بنفسها، وان الشريعۃ الاسلاميۃ لا تستحسن ان تكون هي محل التجارات بنفسها، الا لحاجۃ حقيقيۃ لتبادل بعض العملات ببعض، ولذا فرضت على بيع النقود شروطا وقيودا وفصلناها اعلاه في مباحث الصرف، ولكن هذه السوق جعلت العملات المحل التجارات بنفسها بما احدث فسادا كبيرا في النظام المالي المعاصر،الخ
الثاني: شرحنا فيما قبل ان العملات الورقيۃ عند كثير من العلماء معاصرين والمجامع الفقهيۃ في حكم الذهب والفضۃ، ويشترط في مبادلتها التقابض في المجلس، وان هذا الشرط مفقود في معظم العمليات هذه السوق، فانها تنقسم الى بيع عاجل وآجل، وان التقابض مفقود فيهما، لان ما يسمى "البيع العاجل" لا يقع فيه التقابض الا بعد يومين من يوم العقد،واما على الموقف الثالث الذي شرحناه ورجحنا، فانه يجب في تبادل العملات المختلفۃ الجنس ان يقع القبض على احدى العملتين في مجلس العقد، وهذا الشرط مفقود ايضا في هذا السوق، فانما يقع البيع والشراء عموما عن طريق الكمبيوتر او الانترنت،
الثالث: وكثيرا ما یبيع الانسان ما لا يملكه، ولا يقع التسليم والتسلّم في كثير من عمليات السوق، وانما يصفی الباعۃ والمشترون عملياتهم بفروق الاسعار،
الرابع: وقد تعطى بورصۃ عملات فرصۃ للانسان ان يوضع فيها مبلغ الاقل، ويتجر بمبلغ اكثر، وتقدم البورصۃ ضمانا للمبلغ الباقي بعمولۃ تطالبها من المتعامل بالأكثر، ويسمى "البيع بالهامش" وهذا في الحقيقۃ قرض يتقاضى عليه فوائد ربويّۃ،
الخامس: ما يشتريه الانسان عن طريق هذه السوق عملات غير متعينۃ، لأن التعيین في العملات انما يتحقق بالقبض، وهو مفقود في معظم عمليات، ومن هذه الجهات، فانه لا يجوز التعامل شرعاً عن طريق سوق الفوركس،الخ (المبحث السابع تقسیم البیع من حیث نوعیۃ البدلین، الباب الثالث فی الصرف،تجارت العملات عن طریق الفوریکس، ج 2، ص 763، ط: مکتبۃ معارف القرآن)۔