بسنت کا تاریخی پس منظراور جائز ہے یا ناجائز۔
بسنت ایک غیراسلامی تہوار ہے جس کی ابتداء ۱۷۴۷ء کو ہوئی ۔ جو ہندو لوگ ایک گستاخِ رسول ’’حقیقت رائے‘‘ کو دادِ تحسین دینے کے طور پر مناتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کا بسنت میلہ منانا قطعاً ناجائز ہے۔ جس سے احتراز لازم ہے۔ چونکہ یہ غیرمسلم قوم کا طریقہ اور انہی کی رسم ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ مذکور طریقے سے اجتناب کریں، ورنہ اس کی نحوست سے ایمان خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ اسلام کے اندر صرف دو تہوار ہیں: ایک عیدالاضحیٰ، دوسرا عید الفطر۔ ان کے علاوہ کسی اور خاص دن کے منانے سے منع کیا گیا ہے، جیسا کہ اسلام سے پہلے دو دن ’’نیروز‘‘ اور ’’مہرجان‘‘ تہوار کے طور پر منائے جاتے تھے، حضور اکرمﷺ نے ان سے منع فرمایا اور جو کھیل تماشہ ان میں ہوتا تھا، اس سے بھی منع فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دونوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں، یعنی عید الاضحیٰ اور عید الفطر۔ پس مسلمانوں کو اس قسم کے تہوار منانے سے احتراز لازم ہے۔
كما فی مشكاة المصابيح: عن أنس قال: قدم النبي - صلى الله عليه وسلم - المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما فقال: «ما هذان اليومان؟» قالوا: كنا نلعب فيهما في الجاهلية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قد أبدلكم الله بهما خيرا منهما: يوم الأضحى ويوم الفطر ". رواه أبو داود (1/ 452)
وفی مرقاة المفاتيح: قال المظهر: فيه دليل على أن تعظيم النيروز والمهرجان وغيرهما أي: من أعياد الكفار منهي عنه. قال أبو حفص الكبير الحنفي: من أهدى في النيروز بيضة إلى مشرك تعظيما لليوم فقد كفر بالله تعالى، وأحبط أعماله. وقال القاضي أبو المحاسن: الحسن بن منصور الحنفي: من اشترى فيه شيئا لم يكن يشتريه في غيره، أو أهدى فيه هدية إلى غيره فإن أراد بذلك تعظيم اليوم كما يعظمه الكفرة فقد كفر، وإن أراد بالشراء التنعم والتنزه، وبالإهداء التحاب جريا على العادة، لم يكن كفرا لكنه مكروه كراهة التشبه بالكفرة، حينئذ فيحترز عنه. اهـ.(3/ 1069)