گناہ و ناجائز

ادارہ کا بغیر بتائے چھٹیوں کے پیسے کاٹنا

فتوی نمبر :
91372
| تاریخ :
2026-01-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ادارہ کا بغیر بتائے چھٹیوں کے پیسے کاٹنا

محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہم نے ایک دینی ادارے میں تقریباً دو سال تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ ملازمت اختیار کرتے وقت نہ تو کوئی تحریری اصول و ضوابط بتائے گئے اور نہ زبانی طور پر چھٹیوں، تنخواہ یا کٹوتی سے متعلق کوئی واضح شرائط بیان کی گئیں۔
ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی کسی قسم کے قواعد و ضوابط سے ہمیں مطلع نہیں کیا گیا۔ دوسرے سال کے اختتام پر ہم نے ملازمت ختم کرنے کا ارادہ کیا اور باقاعدہ استعفیٰ جمع کرا دیا۔
استعفیٰ کے وقت ادارے کے ذمہ داران نے یقین دہانی کرائی کہ باقی مالی واجبات بعد میں ادا کر دیے جائیں گے، اس پر اعتماد کرتے ہوئے ہم تقریباً ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے اپنے گھر واپس آ گئے۔
بعد میں حساب کی ایک پرچی موصول ہوئی جس کے مطابق ہماری تین ماہ کی جزوی تنخواہ (اکتوبر، نومبر، دسمبر کے 18 دن) ملا کر تقریباً 20,000 روپے بنتے تھے، جن میں سے 7333 روپے یہ کہہ کر منہا کر لیے گئے کہ ہم نے مقررہ چھٹیوں (28 دن) سے زیادہ (48 دن) چھٹیاں لی ہیں۔
حالانکہ ہمیں پہلے کبھی یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ چھٹیوں کی حد مقرر ہے، نیز دفتر سے معلوم کرنے پر بتایا گیا تھا کہ اگر چھٹی کی درخواست دے کر رخصت منظور کرا لی جائے تو تنخواہ نہیں کٹتی، اور ہم ہر چھٹی باقاعدہ درخواست دے کر ہی لیتے تھے۔
جب ہم نے اس کٹوتی پر وضاحت طلب کی تو ذمہ داران نے نہ تو فون پر بات کی، نہ روبرو ملاقات کے لیے کوئی وقت دیا، بلکہ رابطہ بھی منقطع کر دیا۔
استفسار:
ایسی صورتِ حال میں:
کیا بغیر واضح شرائط و ضوابط کے بعد میں چھٹیوں کے نام پر تنخواہ سے رقم منہا کرنا شرعاً درست ہے؟
کیا ادارے پر باقی ماندہ پوری رقم ادا کرنا لازم ہے؟
اس طرح ٹال مٹول اور گفتگو سے اجتناب کا شرعی حکم کیا ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
والسلام
عبادہ بن عزیر

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے ملازم کی حیثیت اجیرِ خاص کی ہوتی ہے، جس میں وہ وقت اور کام کرنے کے بعد طے شدہ اجرت کا حقدار بنتا ہے۔ لیکن جس ادارے کے ضابطے کے مطابق کسی ملازم کو جتنی تاخیر معاف ہو یا چھٹیاں کرنے کی اجازت ہو، تو اتنے دنوں کی تنخواہ کاٹنا شرعاً جائز نہیں۔ لہذا سائل جس ادارے میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا، اگر اس ادارے کی ایسی کوئی پالیسی واقعۃً بنی ہوئی نہ ہو اور نہ ہی ملازمین کے سامنے اس کی تفصیلات موجود ہوں، بلکہ عمومی ضابطے کے مطابق چھٹی کرنے کے لیے متعلقہ نگران سے چھٹی لینا کافی سمجھا جاتا ہو اور اسی بنیاد پر دیگر ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی بھی نہ کی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں انتظامیہ کا سائل کے ساتھ عمومی پالیسی کے بجائے امتیازی رویہ رکھنا کسی بھی طرح مناسب طرزِ عمل نہیں بلکہ عدل کے بھی خلاف ہے۔ لہذادونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے افہام و تفہیم کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکاة المصابیح :وعن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحاً حرم حلالاً أو أحل حراماً، والمسلمون على شروطهم إلا شرطاً حرم حلالاً أو أحل حراماً» . رواه الترمذي وابن ماجه وأبو داود .اھ،(ج:۱،ص:۲۵۳، باب الافلاس والانظار، الفصل الثانی، ط: قدیمی)
و فی رد الحتارتحت قوله: ( وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلاً يوماً يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة، وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضاً. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلاً، وعليه الفتوى ... (قوله: ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه، وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة.اھ( کتاب الاجارۃ ،ج:۶،ص:۷۰،ط:سعید)
و فی شرح المجلۃ :لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي.اھ(مادۃ: 97،ج:۱،ص:۲۶۴، ط: رشیدیہ)
و فی فتح القدير : أن ‌الأجير ‌الخاص هو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة ، وإن لم يعلم كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم.اھ(كتاب الإجارۃ ، باب إجارۃ العبد ج: 9 ص: 140 ط: دار الفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91372کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات